Pages

Sunday, July 26, 2015

History and Truth: The Irony of History تاریخ اور سچائی :المیہ تاریخ







ڈاکٹر مبارک علی
تاریخ اور سچائی
مورخ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو تاریخ واقعات کو سچائی کے ساتھ پیش کرتےہیں اور تاریخ کو اس کے حقیقی رنگ میں تشکیل دیتے ہیں دوسرے وہ جو تاریخ میں سچائی کو چھپا کر واقعات کو مسخ کردیتے ہیں وہ مورخ جو سچائی کےلئے چھان بین کرتے ہیں اور تاریخ سے جھوٹ اور دروغ کو نکالتے ہیں ایسے میں مورخ علمی زندگی میں انتہائی تکالیف برداشت کرتے ہیں اور عملی زندگی میں مادی فوائد حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ مورخ با اقتدار طبقوں اور ان کے مفادات کےلئے انتہائی سود مند ہوتے ہیں اور تاریخ کو ان کی خواہش کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرتےہیں اس طرح سے دو قسم کی تاریخ متوازی طور پر لکھی اور پڑھی جاتی ہے ان میں ایک سرکاری، ادارتی اور روایتی ہوتی ہے جب کہ دوسری غیر سرکاری اورغیر روایتی ہوتی ہے۔
سرکاری مورخوں کی حکومت کی جانب سے پوری پوری سرپرستی کی جاتی ہے انہیں بھرپور مالی امداد دی جاتی ہے اور ان کی رسائی حکومت کی دستاویزات تک ہوتی ہے تاکہ یہ ان کی استعمال سے تاریخ کو مسخ کرنے کا کام آسانی سے سر انجام دے سکیں او راپنے سرکاری نقطہ نظر کی مدد سے حکومتی اداروں کو سہارا دیں تعلیمی اداروں میں بھی انہیں کی کتابیں نصاب میں داخل کی جاتی ہیں اور انہیں کو اس کے مواقع ملتے ہیں کہ وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر آکر اپنا نقطہ نظر بیان کریں ۔
لیکن وہ مورخ جو تاریخ میں سچائی کے متلاشی ہوتے ہیں اور محنت کے بعد صحیح واقعات کو سامنے لاتےہیں ان کو نہ تو سرکاری امداد ملتی ہے اور نہ ملازمتیں نہ ہی معاشرے کے آزاد طبقے ان کی مدد کے لئے آتے ہیں اور بہت جلد وہ معاشرے میں تنہائی کاشکار ہوجاتےہیں حالت یہاں تک ہوجاتی ہے کہ پبلیشرز ان کی کتابیں چھاپنے سے انکار کردیتےہیں اور بک سیلرز ان کی کتابوں کی فروخت پسندنہیں کرتے ۔
وجہ ہے کہ آمرانہ اورمطلق العنان حکومتیں سچائی سے نفرت کرتی ہیں کیونکہ جب تک واقعات پر جہالت کا پردہ پڑا رہے گا ان کے جرائم او ران کی بدعنوانیاں اس پردے کے پیچھے چھپی رہیں گی ۔ اس لئے تاریخی سچائی اور حقیقت کو ملک اور قوم کی عزت کے نام پر چھپایا جاتاہے اور اس کا جواز اس طرح پیش کیا جاتاہے کہ سچائی کےظاہر ہونے سے ملک کے تحفظ کو خطرہ ہوگا یا قوم کے وقار کو دھچکا لگے گا اس لئے ایک و قوم کی عظمت اور عزت کےلئے ضروری ہے کہ سچائی کو چھپا یا جائے اس سلسلے میں سب سے اچھی مثال 1936ء کا جرمن پینل کوڈ ہے جو اس ذہن کی پوری پوری عکاسی کرتاہے اس قانون کے تحت ایسے تمام تاریخی واقعات جن کے ظاہر کرنے سے جرمن قوم کا وقار مجروح ہو اس کی سزا قید با مشقت ہے اس ضمن میں یہ قطعی نہیں دیکھا جائے گا کہ واقعات صحیح ہیں یا غلط ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوسکتاہے کہ آمرانہ حکومتوں نے کس طرح اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تاریخ کو استعمال کیا اور سچائی کوروکنے کےلئے قانون اور سنسر شپ کی مدد لی ۔
با اقتدار طبقوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ تاریخ  میں ان کا ایک ایسا تصور ابھرے جس میں وہ انتہائی ایماندار اور معصوم بن کر ابھریں تاکہ اپنے اس تصور کے سہارے وہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرے ان پر حکومت کرسکیں یہ کام تب ہی ممکن ہے جب کہ تاریخ کو مسخ کیا جائے واقعات کو جھوٹ کے ذریعے بیان کیا جائے اور سرکاری دستاویزات کےغلط حوالے دیئے جائیں ۔
حکمران طبقے اپنے اثر ورسوخ کو مستحکم کرنے کےلئے کئی طریقے استعمال کرتےہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چند شخصیتوں کو ابھارا جاتاہے اور آہستہ آہستہ ان کو عام انسان سے بڑھا کر تقدس کا رتبہ دے دیا جاتاہے یہاں تک کہ یہ شخصیتیں ایسا روپ اختیار کرلیتی ہیں کہ ان پر کی قسم کی تنقید یا اعتراض معاشرے کی نگاہ میں جرم ہوجاتاہے ایک مرتبہ جب یہ شخصیتیں اس مرتبہ کو حاصل کرلیتی ہیں تو پھر ان کے اقوال نصیحتیں اور ہدایات ( جوکہ اکثر جعلی ہوتی ہیں) کے ذریعے با اقتدار طبقے اپنے اقتدار مراعات اور اپنی پالیسیوں کو صحیح ثابت کرتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتاہے کہ سرکاری مورخین کو حکومت مدد کے لئے بلاتی ہے تاکہ وہ ان شخصیتوں کے ایسے اقوام تراشیں جو موجودہ نظام کو مستحکم کریں اگر کوئی مورخ یہ کوشش کرے کہ وہ ان شخصیتوں کی حقیقت کو سامنے لائے ان کے اقوام کی سچائی کاتجزیہ کرے اور تاریخْ کو اصل حقیقت میں پیش کرے تو ایسی کوششوں کو ملک دشمن و قوم کہہ کر کچل دیا جاتاہے ۔ اس کے نتیجے میں اکثر جھوٹ کا اتنا زوردار تحفظ ہوتاہے کہ سچائی کو ظاہر ہونے تک کئی دہائیاں گزر جاتی ہیں او ریہ تاریخ کا جھوٹ عوام میں سچ تسلیم کرلیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی حکمران طبقے اسی ذہن و دماغ کے ساتھ تاریخ کو اپنے تسلط میں رکھ کر اسے مسخ کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنی بدعنوانیوں کو صحیح ثابت کرتےہیں ، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی غلطیوں اور حماقتوں کو یا توبالکل ختم کردیا جائے یا انہیں اس طرح سے پیش کیا جائے کہ وہ جھوٹ کے لبادے میں روپوش ہوجائیں وہ اپنے وقار اورعزت کو جھوٹی روایات کی بنیاد پر باقی رکھنا چاہتے ہیں پاکستان میں اس کی مثال محمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ سےدی جاسکتی ہے جسے عوام کے اصرار کے باوجود اس بہانے کی بنیاد پر نہیں چھپا گیا کہ اس میں ملک کے بارے میں ایسی احساس معلومات ہیں کہ ان کے ظاہرہونے سے اس کے تحفظ کو خطرہ پیدا ہوجائے گا ۔ چونکہ اس میں با اقتدار طبقوں کی غلطیاں او رحماقتیں ہیں اس لئے یہ ان کےمفاد میں نہیں کہ اس کی اشاعت ہو اور اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں رسوا ہوں ایک دوسری مثال قائد اعظم محمد علی جناح کی ہے کہ جن کی تقاریر سے صرف انہیں اقتباسات کو پیش کیا جاتاہے جو حکمران طبقوں او رحکومتی اداروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور ان کے قیام کے جواز کو صحیح ثابت کرتے ہیں اور ان کی وہ تمام تقریریں جن میں جمہوریت سیکولر ازم یا لبرل ازم کو صحیح ثابت کرتے ہیں اور ان کی وہ تمام تقریریں جن میں جمہوریت سیکورازم یا لبرل ازم کا ذکر ہے انہیں با ضابطہ طور پر چھپا دیا گیا ہے انہیں جس قائد اعظم کی ضرورت ہے صرف اسے ہی اجاگر کیا جاتاہے ۔
المیہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب تاریخ کو مسخ کردیا جائے تو پھر اسے اس کے اصلی رنگ و روپ میں لانے کے لئے کئی نسلوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تاریخ کو سمجھ کر غلط فہمیوں کو دور کرکے اور مفروضو کو پاش پاش کرکے تاریخ کو نئے سرے سے تعمیر و تشکیل کریں تاریخ میں مسلسل جھوٹ کو جب ذرائع ابلاغ عامہ اور نصابی کتابوں کے ذریعے پھیلایا جاتاہے تو یہ طالب علموں اور عوام کے ذہن و دماغ میں بیٹھ جاتاہے اور وہ اس کو صحیح تسلیم کرکے اس سے جذباتی لگاؤ پیدا کرلیتے ہیں اس لئے جب تاریخ سے جھوٹ نکال کر سچ پیش کیا جاتاہے تو ان کے ذہن اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیتےہیں اور اس عمل میں مورخوں کو اور ایس مورخوں کو جو اس ماحول میں رہتےہوئے سچ کو پیش کرنے کی جرات کریں ایک تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس جھوٹ کو قوم کی اجتماعی  یاداشت سے نکالنے کے لئے جرات و ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ مسخ تاریخ نسلوں کو تباہ کرتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں نفرت وتعصب پروان چڑھتا ہے ذہنی ارتقا رک جاتا ہے اور زندگی کے بارے میں محدود نقطہ نظر پیدا ہوجاتاہے فرقہ واریت چھوٹی قومیت اور فاشزم کی طاقتیں معاشرے میں پھیل جاتی ہیں اور عوام ان تضادات کے درمیان اس طرح سے گھر جاتےہیں کہ وہ اپنے اصلی اور بنیادی مسائل کو بھول جاتےہیں ۔
اکثر ایک بات کہی جاتی ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے اگر یہ بات روایتی تاریخ یا اس تاریخ کے بارے میں کہی جائے کہ جس میں صرف حکمران طبقوں کی تعریف و توصیف ہوتی ہے تو صحیح ہے کیونکہ سرکاری تاریخ واقعات کچھ نہیں سکھاتے اس میں سوائے جھوٹ اور غلط بیانی کے کچھ نہیں ہوتا یہ معاشرے کی انتہائی گندگی اورغلیظ تصویر پیش کرتی ہے لیکن وہ تاریخ جو روایت سےہٹ کر ہو اور جو عوامی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہو اور جس میں تاریخ واقعات کو سچائی اور حقیقی روپ میں پیش کیا گیا ہو ایسی تاریخ نہ صر ف ذہن کو کشادہ کرتی ہے بلکہ یہ قوم کے شعور میں بھی اضافہ کرتی ہے اور یہ وہ تاریخ ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے ۔
تاریخ کے مطالعے کے بعدبہر حال یہ واضح ہوتاہے کہ سچائی میں طاقت ہے باوجود اس کے کہ اسے کچلا جائے، چھپا یا جائے، مٹایا جائے اور اسے نظروں سے اوجھل کیا جائے مگر آخر میں یہ جھوٹ کوختم کرکےاپنی حیثیت کو تسلیم کرالیتی ہے ۔مثلاً ‘‘ گلیلیوں ’’ رجعت پرستوں اور قدامت پرستوں کے سامنے شکست کھا گیا اور سچائی کو تسلیم نہ کراسکا لیکن جہاں ‘‘گلیلیوں’’ کو شکست ہوئی وہاں تاریخ کامیاب رہی اور آخر میں سچائی کو نہ صرف تسلیم کرلیا گیا بلکہ گلیلیوں کو ایک عظیم ہستی کی حیثیت دی گئی اور آخر بیسویں صدی میں جاکر چرچ کو بھی اس کا احسا س ہوا کہ وہ غلط تھا اور گلیلیوں سچا تھا اگرچہ جھوٹ کو مٹانے اور سچ کو ثابت کرنے میں صدیاں گزر گئیں مگر بالاخر سچ جھوٹ پر غالب آیا ۔
سوچنے کی بات صرف یہ ہےکہ اگر ہم اپنی غلطیوں اور حماقتوں کو تسلیم کرلیں تو اس بات کا ہمیشہ امکان رہے گا کہ ہم ان کا علاج دریافت کرلیں گے اور تجربات کی روشنی میں ان غلطیوں کا بار بار اعادہ نہیں کریں گے کیونکہ ناواقفیت او رجہالت بار بار انہیں غلطیوں کی جانب لے جاتی ہے اور قوموں کو تاریخ سےکچھ سیکھنے کاموقع نہیں ملتا ہے۔

0 comments: