skip to main |
skip to sidebar
Urdu Section
فتویٰ قرآن کی عبارت نہیں ہےby ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (ازہری
یہ انتہائی غلط بیان اور تعصب کی بات ہے۔مذکورہ فتوی کسی بھی صریح آیتِ قرآنی پر مبنی نہیں ہے ورنہ کسی مؤمن کے لئے اس کے بارے میں اعتراض کی گنجائش نہیں تھی۔ معاملہ ایک فقہی رائے کا ہے جس پر امت کا اجماع نہیں ہے۔ جہاں امام مالکؒ اور امام ابوحنیفہؒ نشہ کی حالت میں طلاق کے جوازکے قائل ہیں وہیں امام احمدؒ ، امام شافعیؒ اپنے ایک قول میں اور ظاہری اس قسم کی طلاق کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ اور ان کا استدلال یہ ہے کہ جب حالت نشہ میں نماز جائز نہیں ہے تو حالت نشہ میں طلاق کیسے جائز ہوگی۔ امام بخاریؒ بھی اس رائے کے قائل ہیں ، اور ان کے مطابق یہی حضرت عثمانؓ بن عفان، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عمربن عبدالعزیزؒ وغیرہ کی بھی رائے ہے کہ پاگل پن اور نشہ کی حالت میں طلاق نہیں پڑتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم وغیرہ کی بھی رائے ہے کہ نشہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے کیونکہ طلاق دینے والا غیر عاقل ہوتاہے اور اس حالت میں اس کے دوسرے تصرفات بھی جائز نہیں ہوتے جیسے خرید و فروخت اور ہبہ وغیرہ۔
0 comments:
Post a Comment