Pages

Tuesday, January 20, 2015

There is only one religion, all others are merely baseless sects: Dr. Zakir Naik مذہب صرف ایک ہی ہے، باقی سب فرقے ہیں: سلفی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک




نیو ایج اسلام خصوصی نامہ نگار
18 جنوری 2015
وہابی سلفی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کی انڈیا اسلامک کلچرسنٹر میں تقریر کے خلاف سنی، صوفی اور شیعہ ہندستانی مسلمانوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق مختلف سنی صوفی تنظیموں اور خاص طور پر آل انڈیا علماء مشائخ بورڈ اور صدائے صوفیائے ہند کے بینر تلے مظاہرین کی ایک زبردست بھیڑ بینر پوسٹر اور پلے کارڈ لے ہوئے سنٹر کے بڑے دروازے پر جمع ہوئی ۔ ان لوگوں نے ذاکر نائک کے خلاف نعرے بازی کی ۔ مظاہرین نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے نام ایک میمورنڈم بھی دیاجس میں کہا گیاکہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے اب تک اپنی تقریروں کے ذریعہ مسلم سماج میں انتشار پھیلانے کی کوششیں کی ہیں جس کی وجہ سے یوپی سمیت کئی ریاستوں میں ان کے عوامی خطابات پر پابندی عائد ہے ۔ مظاہرین نے منتظمین کے خلاف بھی نعرے بازی کی اورکہاکہ خاموشی کے ساتھ ایسے عوامی خطاب کا اہتمام ہی بتاتاہے کہ جلسہ کرانے والوں کی نیت صاف نہیں تھی ۔ بورڈ کے آفس سکریٹری عبدالمعید ازہری نے بتایاکہ اس تقریب کے خلاف مسلمانوں میں کافی غم وغصہ ہے کیونکہ ذاکر نائک کا اب تک کا ریکارڈ کیا ہواجو سارا مواد ہے وہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے عقائد سے متضاد ہے ۔ انھوں نے بتایاکہ شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ پولس نے مظاہرین کو گیٹ پر ہی روک لیا۔ وہاں بڑی تعداد میں پولس کی پیشگی موجودگی بھی حیرت کی بات تھی ۔

سنٹر کے اندر مین کانفرنس ہال میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرکے زیر اہتمام ’’قرآن اور جدید سائنس‘‘ کے موضوع پر معروف اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن سائنس کی نہیں بلکہ نشانیوں کی کتاب ہے جس میں پوری انسانیت کے لئے راہ ہدایت موجو د ہے۔ اس موقع پر پورا سینٹران کے مداحوں سے بھرا ہوا تھا۔اپنے ایک گھنٹہ کے خطاب میں انہوں نے قرآن اور جدید سائنس سے متعلق درجنوں نکات بیان کئے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کسی بھی مسلک یا کسی بھی عقیدہ کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا۔


ڈاکٹر ذاکر نائک نے تقریر کے بعد بہت سے سوالوں کے بھی جوابات دئے۔ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن سائنس کی تصدیق کا محتاج نہیں بلکہ سائنس کو قرآن کی تصدیق کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت روئے زمین پرقرآن ہی اللہ کے واحد اورزندہ معجزہ کے طورپرموجود ہے۔لہذا تمام انسانوں سے اور خاص طورپرمسلمانوں کو میرا پیغام ہے کہ وہ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں۔سوال جواب کے دوران ایک خاتون نے ذاکر نائک سے سوال کیا کہ اسلا م میں جو اتنے فرقے ہیں ان کے بارے میں وہ کیا کہنا چاہتے ہیں تو ذاکر نائک نے کہا کہ مذہب صرف وہی ہے جس پر وہ عمل کر رہے ہیں باقی جتنے فرقے ہیں ان کی کوئی دینی حیثیت نہیں وہ سب کی سب تنظیمیں ہیں ۔
اس سے قبل انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے نہ صرف دین فطرت کو انتہائی آسان انداز اور آسان زبان میں پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو ایک دوسرے کے بے حد قریب لا کھڑا کیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس روئے زمین پر اور خاص طورپر بر صغیرمیں پائے جانے والے تقریباً تمام بڑے مذاہب اور ان کی ثقافتوں کا انتہائی گہرائی سے تقابلی مطالعہ کیا ہے اورپھر لوگوں کے سامنے اسلامی تعلیمات اوراس کی حقانیت کو انہی کی کتابوں کے حوالے سے پیش کیا ہے۔آئی آئی سی سی کے نائب صدرصفدر ایچ خان نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے مختلف ثقافتوں یا مختلف عقائد میں آجانے والی خامیوں یا برائیوں کو خود انہی کی کتابوں کے حوالوں سے رد کیا ہے۔اوران کے اس طرز عمل سے ایک طرف جہاں مختلف عقائد سے وابستہ لوگوں کو درست راستہ ملا ہے وہیں اسلام کو غیر مسلموں میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ذاکر نائک اسلام کے تعلق سے غیر مسلموں کے سوالات کا جس انداز سے جواب دیتے ہیں اس نے نہ صرف ہمارے برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے قریب کیا ہے بلکہ ان کے اندر پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا ہے۔


آئی آئی سی سی کے سیکریٹری وصی احمد نعمانی نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر صاحب اسلام کی جس بڑے پیمانے پر خدمت انجام دے رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے خود عرب ممالک میں بھی ان کی زبردست پذیرائی ہورہی ہے۔انہوں نے فروغ اسلام کے لئے افریقی ممالک میں بھی متعدد پروگرام کئے ہیں ۔ان کو پوری دنیا میں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ بہت سے سامعین نے ان سے پیس ٹی وی نہ دکھائے جانے کی شکایت کی۔انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ جو لوگ پیس ٹی وی کے مخالف ہیں وہ دراصل اسلام کے پیغام امن سے خائف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات سے رابطہ قائم کیا گیا ہے اور امید ہے کہ بہت جلدانہیں اجازت مل جائے گی۔اس پروگرام میں ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری‘مشتاق احمد ایڈوکیٹ‘محمد شمیم‘شرافت اللہ‘سینٹرکے خزانچی احمد رضا‘شوکت ایچ ایچ مفتی‘پروفیسر جاوید احمد‘اقبال مسعودی‘محمداحتشام ‘ایم اے حق‘ایم ایل اے شعیب اقبال ایان انٹر نیشنل اسکول کے ڈائرکٹر محمد شعیب‘سردار خان کے علاوہ بہت سی ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔سراج الدین قریشی اورصفدر ایچ خان نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی طرف سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔


مظاہرہ تقریباَ 3 گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر ذاکر نائک عقبی دروازے سے جلسہ گاہ میں لائے گئے اور اس دروازے سے واپسی پر بھی مجبور ہوئے۔ ذاکر نائک پر مہاراشٹر، راجستھان ، اترپردیشس سمیت کئی ریاستوں میں پابندی ہے ۔ چونکہ متعلقہ ریاستی حکومتیں ذاکر نائک کے بیان کو نفاق پرور ، اشتعال انگیز اور سماج کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہیں اسی لئے ان کے عوامی خطابات پر پابندی لگا ئی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ ان کا اپنا ٹی وی چینل پیس چینل بھی بند رکھا گیا ہے ۔ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی پابندی کے باوجود ذاکر نائک کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں خاموشی سے بلا کر ان کی تقریر سننے کی اس تدبیر کے خلاف دہلی کے سنی صوفی مسلمانوں اور دیگر مسلک کے مسلمانوں میں بھی سخت غصہ پایا گیا ۔ پورے ہندوستان میں چونکہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف زبردست مظاہرے ہو چکے ہیں اس لئے منتظمین کو اچھی طرح سے علم تھا کہ انہیں دہلی میں عوامی خطاب کے لئے مدعو کر نے کے خلاف رد عمل ہو سکتا ہے اس لئے تمام پیشگی احتیاطی تدبیریں کی گئی تھیں ۔ یہاں تک کہ بھاری تعداد میں پولیس کی سیکوریٹی بھی حاصل کر لی گئی تھی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مظاہرین نے دن کے تین بجے آنا شروع کیا تو منتظمین اور حاضرین کے ایک طبقے نے انہیں دھمکانے کی کوشش بھی کی لیکن مظاہرین کی تعداد بڑھنے لگی تو انہوں نے سلامتی کارکنوں کے ذریعہ اس جھوٹ کو عام کرانے کی کوشش کی کہ تقریب ختم ہو گئی ہے اس لئے مظاہرین کو واپس چلا جانا چاہئے ۔
مظاہرین نے یہ پوچھے جانے پر کہ وہ کیوں جمع ہو ئے ہیں بتا یا کہ ذاکر نائک ایک سے زائد موقعوں پر اہانت رسول ﷺ کے مرتکب ہو ئے ہیں ۔ انہوں نے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی بھی کی ہے اور اتحاد بین المسلمین کو بھی یزید سے متعلق اپنے گھناؤنے بیانات سے چوٹ لگا ئی ہے ۔ کئی لوگوں نے اس سے قبل ذاکر نائک کے نٹ ورک ، ان کے چینل اور دیگر سرگرمیوں پر آنے والے خرچ کی کفالت کے ذرائع کے سلسلے میں سوالات قائم کئے ہیں ۔ انہوں نے ان میں سے کسی کا بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی تعریف بھی کی ہے ۔ ذاکر نائک کے یزید اور اسامہ دونوں کی تعریف میں دئے گئے بیانات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ان کا بولنا آزادئ اظہار کی حدیں چھلانگ کر نفرت انگیزی کی سطح تک جا تا ہے ۔ 


مظاہرین میں قابل ذکر عامر رضاحسین، ظہیرزیدی، ریئس احمد اشرفی، نواز اشرف دہلوی، سعید احمد صدیقی، نظام اشرف، قاری محمد الیاس، سید سہیل ہاشمی، محمد عظیم، شاداب ثقلینی، صوفی ظفیرالدین، مولانا حنبل رضا، مولانا دلشاد احمد، مولانا محمد حسین،مولانا ابو بکر،قاری عبدالوحید،وکیل احمد،محمدذیشان ، عبدالکریم،مشتاق احمد،جان عالم ،اخلاق احمدرضوی، ارمان اشرفی،محمد آصف انجینئر، دلدار اشرفی،عبدالمنان برکاتی،احمد رضا قادری،حسین شیرانی رضوی،ادریس رضا قادری، کے نام شامل ہیں۔

0 comments: