Pages

Showing posts with label محمد یونس. Show all posts
Showing posts with label محمد یونس. Show all posts

Friday, May 18, 2012

قرآن میں ترمیم کبھی نہیں کی گئی اور قرآن میں کسی بھی طرح کی ترمیم کی کوشش خود متضاد ہو جائے گی, Urdu Section , NewAgeIslam.com

Urdu Section
قرآن میں ترمیم کبھی نہیں کی گئی اور قرآن میں کسی بھی طرح کی ترمیم کی کوشش خود متضاد ہو جائے گی
by محمد یونس، نیو ایج اسلام
قرآن کے یہ احکامات اس کے متن کی سالمیت کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر ہیں۔ اگر وحی کے نازل ہونے کے دوران اس کے متن میں تبدیلی یا کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی کی گئی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران ان کے دشمنوں کے ساتھ ہی ساتھ عرب عوام نے اسلام کو قبول نہیں کیا ہوتا، کیونکہ انہیں اس کے اپنے دعووں میں تضاد کا علم ہو جاتا۔ اور چاہے، دلیل کی خاطر، انہوں نے مقبول تاریخی ترتیب کے تحت اسے قبول کیا ہوتا تو ان لوگوں نے یقینی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن کو مسترد کر دیا ہوتا۔ تاہم، ایسا نہیں ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں کا قرآن پر ایمان ویسا ہی شدید تھا جیسا کہ نبی صلی الہہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے پیش رو حضرات کا تھا۔ دوسری نسل کے مسلمانوں میں قرآن کا احترام اس قدر تھا کہ نیزے کی نوک پر لپٹے قرآن کے کچھ صفحات کو صرف فوری طور پر دیکھنے سے حریف مسلم فوجوں کے درمیان ہو رہی جنگ ایک دم رک جاتی تھی [1]۔ اس طرح، خالصتاً معقولی تاریخی نقطہ نظر سے، اس میں شک کی رتّی بھر بھی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانشینوں اور ان کے ذریعہ آئندہ آنے والی نسلوں کو اس کی اصل شکل میں منتقل کیا۔3 ۔ قرآن کے اصل صحف (suhuf) کے تحفظ کی سالمیت

http://newageislam.com/urdu-section/قرآن-میں-ترمیم-کبھی-نہیں-کی-گئی-اور-قرآن-میں-کسی-بھی-طرح-کی-ترمیم-کی-کوشش-خود-متضاد-ہو-جائے-گی/d/7228


Thursday, May 17, 2012

نوکرانیوں اور کال گرلز وغیرہ کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی تعلق کا جواز پیش کرنے کے لئے نقل کی جانے والی قرآنی آیات پر نئی بصیرت, Urdu Section

Urdu Section
نوکرانیوں اور کال گرلز وغیرہ کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی تعلق کا جواز پیش کرنے کے لئے نقل کی جانے والی قرآنی آیات پر نئی بصیرت
by محمد یونس، نیو ایج اسلام
"اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے(24:32)۔ اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر دینے کی شرط پر آزاد) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب (مذکورہ شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے"(24:33)
http://newageislam.com/urdu-section/نوکرانیوں-اور-کال-گرلز-وغیرہ-کے-ساتھ-بغیر-شادی-کے-جنسی-تعلق-کا-جواز-پیش-کرنے-کے-لئے-نقل-کی-جانے-والی-قرآنی-آیات-پر-نئی-بصیرت/d/7242


طلاق شدہ خواتین کے نان و نفقہ کو عدت تک بحال رکھنے کو محدود کرنا غیر اسلامی عمل ہے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

شاہ بانو کے طلاق (اندور، ہندوستان، 1978) کا معاملہ ہندوستانی قارئین کے ذہن میں ہوگا۔ مختصر میں، جبکہ اس معاملے میں جب شوہر نے شادی کے 30 سال سے ​​زیادہ بعد طلاق دیا تو، شوہر نے صرف مہر کا اپنے پاس رکھا ہوا حصہ اور تین ماہ کا نان نفقہ دیا۔ 62 برس کی عمرمیں،بغیر کسی کام کے تجربے اور گرتی صحت کے ساتھ اسے شدت کے ساتھ گزارے کے لئے نان نفقہ کی ضرورت تھی اور اسی سلسلہ میں اس نے عدالت سے رابطہ کیا۔ ان کا معاملہ نچلی عدالت سے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ کی بنچ تک پہنچا(1985)۔ عدالت نے شاہ بانو کے حق میں فیصلہ دیا، عدالت کا فیصلہ وسیع تر قرآنی پیغام کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ مسلم علماء اور عوام نے حکم عدولی کی اور ایسے حالات پیدا ہوئے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، ان لوگوں نے فیصلہ کو پلٹنے اور مسلم پرسنل لاء کے مطابق کرنے کا مطالبہ کیا جس کے مطابق نان نفقہ صرف عدت کے تین ماہ کے دوران ہی ملتا ہے۔ ہندوستانی حکومت پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھانے پر مجبور کی گئی۔ بعد میں حکومت نے مسلم خواتین (طلاق سے متعلق حقوق کے تحفظ) ایکٹ، 1986 کو منظور کیا۔ مسلم پرسنل لاء کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو الٹ دیا گیا۔ یہ ایک غیر اسلامی فرمان تھا جس نے انتہائی غریب مسلم مطلقہ عورت کو اس کے سابق شوہر کی طرف سے باز گرد ملنے والے نان نفقہ کے حق سے انکار کیا اور اسلامی قانون کے اس فرسودہ حصہ کو برقرار رکھا۔

http://newageislam.com/urdu-section/طلاق-شدہ-خواتین-کے-نان-و-نفقہ-کو-عدت-تک-بحال-رکھنے-کو-محدود-کرنا-غیر-اسلامی-عمل-ہے/d/7253


Wednesday, May 16, 2012

NewAgeIslam,Urdu Section ,محمد یونس کی طرف سے اسلامی رسومات میں ترمیم کی ضرورت پر ایم حسین صدر کے مضمون کا جواب

Urdu Section
محمد یونس کی طرف سے اسلامی رسومات میں ترمیم کی ضرورت پر ایم حسین صدر کے مضمون کا جواب
by محمد یونس، نیو ایج اسلام

قرآن ایسا کبھی نہیں کہتا ہے۔ جہاں تک قرآنی پیغام کا تعلق ہے تو یہ تقوی حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہے: اپنے نفس پر قابو پانا اور اپنے ضمیر کی جانب متوجہ ہونے کو پیدا کرنا ہے (2:183، 2:187)۔ اس کے لئے کسی جرمانہ یا سزا کی شق نہیں ہے اور جو نہ رکھ سکے وہ کم از کم ایکی غریب کو کھانا کھلا کر اسے چھوڑ سکتا ہے (2:183)۔ روزہ کو خدا کی عبادت کے ایک طریقہ کے طور پر بتایا گیا ہے جس میں ہدایت کے لئے خدا کا شکر ادا کیا جاتا ہے (2:185) قرآن مزید اعلان کرتا ہے کہ خدا لوگوں کے لئے آسانی چاہتا ہے اور لوگوں کے لئے مشقت نہیں چاہتا ہے (2:185)، اور اس وجہ سے روزے کی نوعیت پر انحصار کرتے ہوئے جو لوگ اسے بہت سخت پائیں وہ طے کر سکتے ہیں کہ روزہ رکھیں یا نہیں‑ اگرچہ قرآن کہتا ہے کہ روزہ رکھنا بہتر ہے(2:183)۔ اس طرح مصنف کا حوالے کے طور پر دیا گیا بیان گمراہ کن ہے۔---

http://newageislam.com/urdu-section/محمد-یونس-کی-طرف-سے-اسلامی-رسومات-میں-ترمیم-کی-ضرورت-پر-ایم-حسین-صدر-کے-مضمون-کا-جواب/d/7261

نیوٹ گنگ رچ قدیم اسلامی قانون کی سرزنش کرنے والوں میں اکیلے نہیں ہیں, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
نیوٹ گنگ رچ قدیم اسلامی قانون کی سرزنش کرنے والوں میں اکیلے نہیں ہیں
by محمد یونس، نیو ایج اسلام
" وقت آ گیا ہے کہ مسلم اسکالر شپ اسلامی عقیدے میں، اس کی بنیادی کتاب، قرآن پاک اور اس کے مذہبی قوانین (روایات اور شرعی قوانین) کے درمیان تقسیم پر توجہہ دے: ان میں سے ایک ایمان کے مرکز کے طور پر تاریخ میں ایک زمانے میں ظاہر ہوا، اور دوسرا اس کی دوسری صدی کے بعد میں ایمان کی ابتدائی اضافے مہں لہر کے طور پر سامنے آیا۔ جس کا ذکر پہلے کیا گیا وہ مستقل، ابدی اور تاریخ سے آزاد ہے۔ مؤخر الذکر تاریخی عوامل سے متاثر رہا ہے: اسلام میں داخل ہونے والے لوگوں کا اسلام سے قبل ایمان، تہذیبی حالات، مذہبی رجحان اور اس زمانے کے تعلیمی طریقے۔ ‑ اس سے قطع نظر کہ یہ خدا کی طرف سے آیا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قائم کیا، اگر اسلام کو اس 'مذہب' سے موازنہ کیا جاتا ہے جسے قرآن کی حمایت حاصل ہے تو یہ عالمگیر، روادار، متوازن، صنفی غیر جانبدار، جامع، غیر سیاسی، کثرتیت، لچکدار ہے ‑ اگرچہ وسیع حدود، اور انصاف، آزادی، مساوات، اور دیگر عالمگیر سیکولر اقدار کےکا نمائندہ ہے
http://newageislam.com/urdu-section/نیوٹ-گنگ-رچ--قدیم-اسلامی-قانون-کی-سرزنش-کرنے-والوں-میں-اکیلے-نہیں-ہیں/d/7275

Tuesday, May 15, 2012

رشتہ ازدواج سے باہر جنسی تعلقات کے لئے خواتین کو کوڑے مارنا سفاکانہ اور غیر اسلامی عمل ہے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
رشتہ ازدواج سے باہر جنسی تعلقات کے لئے خواتین کو کوڑے مارنا سفاکانہ اور غیر اسلامی عمل ہے
by محمد یونس، نیو ایج اسلام
قرآن 'عوامی بدکاری' یا 'زنا' کے لئے کوڑے مارنے کی سزا کا حکم دیتا ہے اس زمانے میں ایک رواج یہ تھا جو عورتوں کو اجازت دیتا تھا کہ ان کے شوہر اگر کاروبار، حملے یا کسی دوسرے مشن کے سلسلے میں گھر سے دور ہوں تو وہ اجنبیوں کے ساتھ رہ سکتی ہیں (24:2) ۔ اس رواج نے بچوں کے والد کو طے کرنے کا تنازعہ پیدا کیا جو ازدواجی زندگی سے باہر پیدا ہوئے بچوں کی شناخت کے لئے جمع ہونے پر بچوں کے چہرے مہرے کو اس کے والد سے موازنہ کیا جاتا تھا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا تھا [3]۔ یہ مشق، ایک سماجی معیار بن گیا تھا، جو مردوں کو ان خواتین، جن کے ساتھ انہوں نے عارضی شادی کی تھی یا ساتھ رہے تھے، ان کے تئیں تمام سماجی اور مالیاتی ذمہ داریوں سے آزاد کرتا تھا، یہ خواتین کو مالی حصولیابیوں کے لئے بدکاری کرنے پر مجبور کرتا تھا، اور اس طرح کے تعلقات سے پیدا ہوئے بچوں کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ قرآنی خاندانی قوانین کے بالکل متضاد تھا جو (1) مردوں کو ان کے جنسی، مالیاتی اور سماجی لائسنس سے محروم کرنے، (2) بدکاری کے ادارے بننے کا خاتمہ کرنے، (3) خواتین کو قانونی، مالی، وراثت اور ذاتی حقوق عطا کرنے اور (4) تولیدی مرحلے میں خواتین کو مالی تحفظ عطا کرنے کے لئے تھا۔ اس لئے ایک ہنگامی اقدام کے طور پر اس اشتعال انگیز عمل کو قرآن کو روکنا تھا، جس کے لئے یہ ایک خاص اصطلاح، 'زنا' (25:68، 17:32) اور ساتھ ہی ساتھ 'فٰحشۃ' کی عام اصطلاح کا استعمال کرتا ہے(4:15 ).۔ اسی کے مطابق، قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے، جب آپ کی خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور چوری نہیں کریں گی اور بدکاری نہیں کریں گی(60:12)، تو ان کی بیعت قبول کر لیا کریں۔