Pages

Showing posts with label مسلم. Show all posts
Showing posts with label مسلم. Show all posts

Friday, June 15, 2012

راست گوئی کا تقاضہ کرے ایماں مجھ سے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
راست گوئی کا تقاضہ کرے ایماں مجھ سے
ہمیں اسلامی قانون پڑھتے پڑھاتے ، اس پر لکھتے لکھاتے آدھی صدی گزر چکی ہے ۔ ویسے تو شرعی مسائل کی گونج ہم نے پالنے ہی میں سنی تھی اور بڑے ہوتے ہوتے ان سے خاصی واقفیت ہوچکی تھی ، لیکن اسلامی قانون کا باضابطہ مطالعہ ہم نے اب سے پچاس برس پہلے 1959میں شروع کیا تھا، جب لکھنؤ یو نیورسٹی میں قانون کی ابتدائی کلاس میں ہمارا داخلہ کروایا گیا اور ہمیں مسلم لا پر غیر مسلم استاد وں کے متعصّبانہ انداز فکر کا تجربہ ہوا۔جب سے اب تک کی نصف صدی ہم نے اس قانون کو گہرائی سے پڑھنے میں گزاری ہے۔ خدا غریق رحمت فرمائے ہمارے مرحوم والدین کو جنہوں نے بچپن سے ہی ہمیں عربی ،فارسی اور اردو بھی پڑھائی تھی ،جس کی بدولت ہمیں یہ قانون اس کے اصل مآخذ سے پڑھنا نصیب ہو ا۔ آگے چل کر ہم نے مغرب کی دانش گاہوں میں مسلم ممالک کی عائلی اصلاحات پر تحقیق کرنے کے بعد ان کی عملی صورت کا بہ چشم خود مشاہدہ کرنے کے لئے عالم اسلام کی سیر کی اور قاہرہ پہنچ کر جامعہ ازہر کے استاد ان وقت کی جوتیاں سیدھی کیں، اسلامی قانون پر مشرق ومغرب میں ہونے والے متعدد عالمی مذاکرات میں شرکت کی اور جدّہ اور مکّہ معظّمہ کی فقہ اکیڈموں کے اجلاسوں میں حاضر ہوئے ۔ جب ہماری چشم حیرت نے یہ دیکھا کہ اصل اسلامی قانون تو بے حد عظیم اور بے مثال ہے اور وہ ہر گز نہیں ہے، جودرسی کتابوں میں لکھا ہوا ہے یا جس پر ناواقف عوام کا عمل ہے، جس کےباعث دنیا اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تو دل میں ایک تڑپ پیدا ہوئی اور خدا کا نام لے کر ہم نے اصل اسلامی قانون کو اجاگر کرنے اور اس سے متعلق پھیلی ہوئی شدید غلط فہمی کو دور کرنے کا بیڑا اٹھا یا تاکہ دنیا کو عظیم اسلامی قوانین کی حقانیت کی کماحقہ قدر کرنے کی توفیق ہو۔
http://newageislam.com/urdu-section/راست-گوئی-کا-تقاضہ-کرے-ایماں-مجھ-سے/d/1676

Tuesday, May 15, 2012

اسلام کو قرآن کی طرف واپس لائیں, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
اسلام کو قرآن کی طرف واپس لائیں
by سیف شاہین، نیو ایج اسلام
قرآن کے تکثرتیت کے پیغام کے ساتھ ملا کر پڑھنے پر ، یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ مسلمان دوسرے فرقوں کے ساتھ پر امن طریقے سے بقائے باہمی میں رہیں، ان کو ان کے حقوق دیں اور عدم تشدد کے ساتھ خود کی دفاع کریں۔ یہ ان کو جبر کے خلاف جنگ شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں صرف اس حال میں جب پوری مسلم آبادی کے مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہو۔ ایک ایسے زمانے میں جب مسلمانوں کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہیں، یا عالمی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں اور وہ دنیا کے تمام حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ایسے میں اسلام کے دفاع کرنے کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد واضح طور پر قرآن کی خلاف ورزی کرنے والا ہوگا۔

مسلم معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مسلم معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان
by مولانا ندیم الواجدی
اس صورت حال پر قابو پانا بے حد ضروری ہے، ورنہ آنے والے دنوں میں ازدواجی زندگی کے راستے اور زیادہ کٹھن ہوسکتے ہیں ، ابھی حال ہی میں مغربی یوپی کے ایک نامی گرامی قصبے میں طلاق کا واقعہ پیش آیا، کسی شخص نےاپنی بیوی کو غصے کی حالت میں تین طلاقیں دیدیں، علاقے کے علما حضرات اصلاح معاشرہ کی اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح پورا کرتے ہیں اس کا ایک اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اخباری بیانات کے ذریعے دارالعلوم دیوبند، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے اداروں سے یہ مطالبہ شروع کردیا ہے کہ وہ تین طلاقوں کو ایک ماننے کا فتویٰ جاری کریں، چاہئے تو یہ تھا کہ یہ حضرات علما کرام اپنے اپنے علاقوں میں پھیل جاتے اور لوگوں کو شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرتے، اس کے بجائے وہ طلاق کا فتویٰ بدلنے کا مطالبہ کرنے لگے، مسلم پرسنل لا بورڈ توشرعی احکام کے تحفظ کے لیے بنایا ہے اگر اس سے ہی یہ مطالبہ کیا جانے لگے کہ شرعی احکام میں تبدیلی کردی جائے تو اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہوگی، یہ تو ایسا ہی ہے جیسے زنا اورشراب نوشی ، اور چوری ڈکیتی جیسے جرائم کی زیادتی کو بنیاد بنا کر حکومت سے یہ مطالبہ کیا جانے لگے کہ ان جرائم کی سزا کم کردی جائے ، یا بالکل ہی معاف کردی جائے کیونکہ لوگوں کو اپنے نفس پر قابو نہیں رہا ہے اور وہ جرائم کا ارتکاب کچھ زیادہ ہی کرنے لگے ہیں ۔

http://newageislam.com/urdu-section/مسلم-معاشرے-میں-طلاق-کا-بڑھتا-ہوا-رجحان/d/7326