Pages

Showing posts with label فیصلہ. Show all posts
Showing posts with label فیصلہ. Show all posts

Friday, June 15, 2012

فیصل آبادی مگر مچھ, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
فیصل آبادی مگر مچھ
آپ اگر فیصل آباد میں شیخوپورہ روڈ پر جائیں تو آپ دس منٹ بعد گٹ والا پہنچ جاتے ہیں یہ فیصل آباد کے شہریوں کا پکنک پوائنٹ ہے یہ پوائنٹ آربی نہر پر واقع ہےاس میں ایک چھوٹی سی جھیل او ر چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہے فیصل آباد کی بے شمار فیملیز چھٹی کے دن یہاں پکنک مناتی ہیں، پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے لوگوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے یہاں مگر مچھوں کا ایک چھوٹا سا تالات بنادیا تھا، اس تالات میں 24مگر مچھ تھے، یہ تالاب خانو والہ نہر کے منسلک ہے، نہر کا پانی تالاب میں آتا ہے اور تالاب سے نہر میں واپس چلاجاتا ہے اور مگر مچھ اس پانی میں تیرتے رہتے ہیں ۔مگر مچھوں کے اس تالاب سے دودن قبل ایک دس فٹ لمبا مگر مچھ غائب ہوگیا یہ ایک خوفناک سنسنی خیز اور پریشان کن خبر تھی کیونکہ مگرمچھ خونخوار جانور ہوتا ہے اور یہ سالم گائے تک نگل جاتا ہے اور ایسے خونخوار جانور کاغائب ہوجابا حقیقتاً پریشان کن تھا۔ مگر مچھ کہاں چلا گیا؟ اس کے بارے میں تین امکانات ہوسکتے ہیں ،یہ مگر مچھ تالاب سے نہر میں پہنچ گیا جس وجہ سے نہر کے کناروں پرموجود تمام گاؤں خطرے کا شکار ہوگئے۔ دو یہ مگر مچھ تالاب سے نکل کر جھاڑیوں میں چھپ گیا جس کی وجہ سے یہ پورے فیصل آباد کیلئے خطرہ بن گیا ا ور تین وائلڈ لائف کےکسی اہلکار نے یہ مگر مچھ تالاب سے نکال کرکسی ضرورت مند کو فروخت کردیا اور یہ ضرورت مند اب اس کی چربی سے تیل بنائے گا اسے اپنے کسی سیاسی مخالف پر چھوڑ دے گا یا پھر اسے ذاتی تالاب میں رکھ کر پوری زندگی اس کے ساتھ کھیلتا رہے گا بہر حال فیصل آباد پولیس فیصل آباد کا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور فیصل آباد کے شکاری بڑی شدومد کے ساتھ مگر مچھ کو تلاش کررہے ہیں، نہر کے کنارے واقع تمام دیہات میں بھی بار بار اعلان کرایا جارہا ہے ‘‘ آپ نہر کے کنارے جانے اور اپنے جانوروں کونہر لے جانے سے پرہیز کریں ’’فیصل آباد کے لوگوں کو بھی خطرے سے آگاہ کیا جارہا ہے اور وائلڈ لائف کے اہلکار بڑی سرگرمی کے ساتھ مگر مچھ کو جھاڑیوں ‘ٹوے بٹوں ’ جانوروں کے باڑوں اور حتیٰ کہ درختوں پر تلاش کررہے ہیں۔
http://newageislam.com/urdu-section/فیصل-آبادی-مگر-مچھ/d/1849

’اقبال سمّان’ کے خلاف بی جے پی کی مہم, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
’اقبال سمّان’ کے خلاف بی جے پی کی مہم
آتمہ دیپ

جناح تنازعہ سے پریشان بی جے پی کے لیڈر گرجا شنکر شرما نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے ملک کی تقسیم کے لئے جناح کے ساتھ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ ترانہ کے خالق علامہ اقبال کو بھی قصور ٹھہراتے ہوئے ان کے نام اقبال ایوارڈ دیئے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ یہ سالانہ ایوارڈ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے 87۔1986 سے دیا جارہا ہے۔

مسٹر شرما نے وزیر اعلیٰ کو لکھا ہے کہ کانگریس کی موتی لال وورا سرکار نے مسلمانوں کی ناز برداری کی پالیسی کے تحت یہ ایوارڈ شروع کیا تھا۔ بی جے پی سرکار کو ا یسے شخص کی یاد میں ایوارڈ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جس کی تصویر ایسے فرقہ پرست شخص کی ہے جس نے متحدہ ہندوستان کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر تقسیم کر کے پاکستان بنانے کے لئے نقشہ تیار کیا۔ اقبال نے پاکستان کے تصور کوفروغ دیا اور ا س حالت می ں لئے گئے کہ کچھ ہی عرصے میں ان کا خواب پورا ہوگیا۔ اس لئے اقبال کے نام پر ہرسال دیا جانے والا دولاکھ روپے کا یہ انعام فو راً بند کردینا چاہئے۔

بی جے پی لیڈر نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور وزیر ثقافت کو لکھنے کے علاوہ یہ معاملہ اسمبلی میں بھی دوبارہ اٹھایا ہے ۔ دونوں بار ان کی پارٹی کی سرکار کا مطالبہ تسلیم کرنے کو راضی نہیں ہوئی ۔پہلے جواب میں وزیر ثقافت لکشمی کانت شرما نے انہیں بتایا کہ اس معاملے کی جانچ جارہی ہے۔ مگر حکومت کی طرف سے ابھی تک اقبال ایوارڈ بند کئے جانے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ دوسرے جواب میں وزیر نے شرما کو بتایا ک کسی بھی ایوارڈ کو روکنے یا بند کرنے کی بلاوجہ کوشش کی گئی یا فیصلہ لیا گیا تو ملکی سطح پر اس کا رد عمل ہوسکتا ہے۔ ایسے ناپسند یدہ فیصلہ سے ریاستی حکومت کی شبیہ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لئے سبھی ایوارڈ ز کو نہ صرف قائم رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ان کے وقار کو اور بڑھانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ وزیر ثقافت نے شرما کوجانچ کے نتائج سے باخبر کرتے ہوئے لکھا کہ مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے تخلیق ادب کے مختلف پہلوؤں کے لئے قائم کئے گئے مختلف ایوارڈ وں میں اقبال سمان بھی شامل ہے۔ یہ ایوارڈ 87۔1986 سے اب تک برابر دیا جارہا ہے۔ اردو ادب میں تخلیق کے لئے قائم یہ ایوارڈ ملک کا باوقار ایوارڈ ہے۔ اب تک اردو کے کئی ادباء وشعراء یہ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ اسے بند کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ حکومت میں تبدیلی کے باوجود ان سبھی ایوارڈ وں کا وقار باقی ہے۔ کسی ایوارڈ کو روکنے پابند کرنے کا فیصلہ حکومت کے دل میں کبھی نہیں آیا۔


http://newageislam.com/urdu-section/’اقبال-سمّان’-کے-خلاف-بی-جے-پی-کی-مہم/d/1850