Pages

Saturday, December 12, 2015

From the Heart of a Muslim ایک مسلمان کے دل کی بات

From the Heart of a Muslim ایک مسلمان کے دل کی بات



توفیق حامد
میں مسلمان پیدا ہوا اور میں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے ایک پیروکار کی حیثیت سے بسر کی ہے۔ اس دنیا میں ہر جگہ میرے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں سے وحشیانہ دہشت گردانہ حملوں کے انجام دیے جانے کے بعد اور دنیا کے کئی حصوں میں اسلام پسندوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کے بعد ایک انسان اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس دنیا کو اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو تباہ ہونے اور اور ایک تہذیبی جنگ کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی زبان کھولنا اور اس دنیا کے سامنے سچائی کو پیش کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔
مجھے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری موجودہ اسلامی تعلیمی نصاب غیر مسلموں کے خلاف تشدد اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک ہم نے تعدد ازدواج کو، عورتوں کو زد و کوب کرنے کے مردوں کے حق کو اور اسلام کو چھوڑ کر دیگر مذاہب کو اختیار کرنے والوں کے قتل کو تسلیم کر رکھا تھا۔
غلامی یا جنگوں کے تصور کے خلاف کبھی بھی ہمارا موقف واضح اور مضبوط نہیں رہا ہے، تاکہ ہم اپنے مذہب کو پھیلا سکیں اور اسلام کے آگے دسروں کو سرنگوں کریں اور انہیں جزیہ کے نام پر ایک ذلت آمیز ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کریں۔ ہم دوسروں سے مذہب کا احترام کرنے کے مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ ہم مساجد میں جمعہ کی نماز میں (عربی زبان میں) بلند آواز سے غیر مسلموں پر لعنت بھیجتے ہیں۔
جب ہم یہودی کو "خنزیر اور بندروں کی اولاد" کہتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو کیا پیغام پہنچاتے ہیں ۔۔۔ یہ محبت اور امن کا پیغام ہے یا نفرت کا پیغام ہے؟
میں گرجا گھروں اور اور ان عبادت گاہوں میں بھی گیا ہوں جہاں وہ مسلمانوں کے لیے دعا کر رہے تھے، جبکہ ہم عیسائیوں اور یہودیوں پر لعنت بھیجتے ہیں اور اپنے بچوں کو انہیں کافر کہنے اور ان سے نفرت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ) عیش پرست ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے تو ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے کے لیے اشتعال انگیزی پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ ہم اپنی اسلامی کتابوں میں یہ کہانی بڑے فخر کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سال کی ایک نوجوان لڑکی (عائشہ) سے شادی اس وقت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 50 سال سے زیادہ تھی۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے بڑی تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ 11 ستمبر اور بہت سے دیگر دہشت گردانہ حملوں کے بعد بہت سے مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
مسلمان خود کو اچھا ظاہر کرنے کے لیے میڈیا کے سامنے ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں، لیکن ہم اسلامی دہشت گردوں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور ان کے مقصد سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اب تک ہمارے نامور مذہبی علماء نے اسامہ بن لادن کو مرتد قرار دینے کے لیے کوئی بھی فتویٰ جاری نہیں کیا ہے، جبکہ سلمان رشدی جیسے ایک مصنف کو اسلام کی تنقید پر صرف ایک کتاب لکھنے کے جرم میں مرتد قرار دیا گیا جسے اسلامی شریعت کے مطابق ہلاک کر دیا جانا چاہئے۔
مسلمانوں نے زیادہ مذہبی حقوق حاصل کرنے کے لیے مظاہرہ کیا، جیسا کہ ہم نے حجاب پر پابندی کو روکنے کے لئے فرانس میں کیا، لیکن ہم نے اسی جذبہ کے ساتھ اور اتنی تعداد میں دہشت گرد قاتلوں کے خلاف کبھی مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف ہم بالکل خاموش ہیں، جس کی وجہ سے برے اعمال کرنے کے لیے ان دہشت گردوں کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ ہم مسلمانوں کو اپنے مسائل کو دوسروں پر یا فلسطینی / اسرائیلی تنازع پر ڈالنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ حق تویہ ہے کہ اسرائیل پورے مشرق وسطی میں جمہوریت، تہذیب اور انسانی حقوق کا ایک واحد مینارہ نور ہے۔
ہم نے اکثر عرب ممالک سے یہودیوں کو کسی معاوضہ یا رحم و کرم کے بغیر ہی نکال دیا تاکہ انہیں ‘‘یہودیوں سے آزاد’’ ملک بنایا جائے، جبکہ اسرائیل نے لاکھوں عربوں کو وہاں زندگی بسر کرنے، ان کی قومیت اختیار کرنے اور ایک انسان کی حیثیت سے انہیں اپنے حقوق سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اسرائیل میں مردوں کو عورتوں کی پٹائی کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، اور کوئی بھی شخص وہاں 'ارتداد کے اسلامی قانون کی بنیاد پر موت کے خوف کے بغیر ہی اپنا دین آسانی کے ساتھ بدل سکتا ہے، جبکہ ہمارے اسلامی ممالک میں لوگوں کے پاس یہ حقوق نہیں ہیں۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ "فلسطینیوں" کو آج نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن انہیں اسرائیل نہیں بلکہ ان کے اپنے بدعنوان لیڈروں کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں رہنے والے عربوں کو دنیاے عرب میں ہجرت کرتے ہوئے عام طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ جبکہ دوسری جانب ہم ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کو بخوشی کام کی تلاش میں اسرائیل 'دشمن ملک' کا سفر کرتے ہوئے اکثر دیکھتے ہیں، اگر اسرائیل عربوں کے ساتھ برا سلوک کرتا جیسا کہ کچھ لوگوں کا دعوی ہے تو یقینا ہم اس کا بر عکس دیکھتے۔
ہم مسلمانوں کو اپنے مسائل کو تسلیم کرنے اور ان کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں ہم ان کا علاج کر سکتے ہیں اور انسانوں کے ساتھ ہم آہنگ اور پر امن زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کو تعدد ازدواج، عیش پرستی، غلامی، اسلام چھوڑ کر دیگر مذاہب کو قبول کرنے والوں کو قتل کرنے، عورتوں کو مارنے، اور اسلام کو پھیلانے کے لیے غیر مسلموں کے خلاف اعلان جنگ کے خلاف ایک واضح اور انتہائی مضبوط موقف ظاہر کرنا ہوگا۔
تبھی ہمارے پاس دوسرے سے یہ مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہو گا کہ وہ ہمارے مذہب کا احترام کریں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم نفاق کو ترک کر دیں اور اور کھل کر یہ کہیں کہ: "۔ ہم مسلمانوں کو بدل ہونا ہوگا"۔
ماخذ:
petahtikvah.com/Articles/FromtheHeartofaMuslim.htm

0 comments: