Pages

Showing posts with label گاندھی. Show all posts
Showing posts with label گاندھی. Show all posts

Wednesday, June 20, 2012

کرناٹک میں عید میلاد پر جلوسوں کی بہار, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
کرناٹک میں عید میلاد پر جلوسوں کی بہار

اسجد نواز

12ربیع الاوّل کو پوری دنیا میں جشن منایا جاتا ہے۔ اپنی عقیدتوں کے پھول اور محبت والفت کا اظہار برتی روشنی اور گھر ودیگر مقامات پر قمقمے لگا کر کرتےہیں۔ آپؐ کی مدح وثنا میں اپنی زبان کو ترکرنے اور آپ ؐ کی مقدس زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کیلئے پوری دنیا میں فرزندان توحید اپنی عقیدت ومحبت کو اظہار کرنے کیلئے جلوس محمدیؐ نکا ل کر جشن مناتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالا سمیت دیگر ریاستوں میں بڑے ہی دھوم دھام سے 12ربیع الاول منایا جاتا ہے۔ ریاست کرناٹک کے ہر ضلع میں اس دن مختلف تنظیموں اور مختلف کمیٹیوں کے زیر اہتمام لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید جشن میلا د النبیؐ مناتے ہیں اور اپنے اپنے علاقے میں زبردست جلوس نکال کر اتحاد واتفاق کا درس دیتے ہیں۔

مدرسہ غریب نواز گڑدہلی ، مدرسہ معراج المونین نائنڈ ہلی ،کاٹن پیٹ درگاہ حضرت تو کل مستانؒ غوث الوریٰ کمیٹی رام چندر پورم، خلاصی پالیم نوجوان اہل سنت کمیٹی، نوجوانان اہلسنت نیلسند را ، مدرسہ جامعہ مولا علی، شولہ سرکل اشوک نگر، نوری فاؤنڈیشن تلک نگر ، مدرسہ نظام الدین اولیا گردپن پالیہ ، مون اسٹار کمیٹی شیواجی نگر، مدرسہ فلاح ملت میسور روڈ ، ٹیپونگر خداداد کمیٹی ۔ اس کے علاوہ تقریباً 70سے زائد کمیٹیاں جلوس میں شامل ہوتی ہیں۔ بعد نماز عرر وائی ایم سی گراونڈ میں خصوصی خطاب ہوتا ہے۔ ہر جگہ سے بعد نماز ظہر جلوس کی روانگی ہوتی ہے۔

کاروار: مرکز اہلسنت جامعہ نوریہ قادریہ

عید میلاد النبیؐ کمیٹی آزاد نگر، نوجوان اہلسنت سبھاش نگر ، نوجوانان اہلسنت پیپر میل نوجوا نان اہلسنت ٹاؤن شب ، نوجوانان اہلسنت کمیٹی گنیش نگر، نوجوانان اہلسنت گاندھی نگر ، عید میلاد کمیٹی مارکیٹ ایریا ، عید میلاد کمیٹی ممبئی چال ، نوجوانان اہلسنت کمیٹی گوتم محلّہ ۔

ہبلی : عرس اور اجلاس کمیٹی

http://newageislam.com/urdu-section/کرناٹک-میں-عید-میلاد-پر-جلوسوں-کی-بہار/d/2513


Saturday, June 16, 2012

گاندھی جی کی زخمی بکری, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
گاندھی جی کی زخمی بکری

فیروز بخت احمد

بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ گاندھی جی شستہ اردو تولکھتے ،بولتے اور پڑھتے تھے ہی ،عربی بھی وہ جانتے تھے اور فارسی کا بھی انہیں علم تھا کیونکہ اکثر سیاسی محفلوں میں وہ فارسی اشعار وکہاوتوں کا استعمال کیا کرتے تھے ۔اردوکلچر یا اسلامی اقدار سے قربت مولانا آزاد سے قربت کا نتیجہ تھی۔

کچھ لوگوں کےنزدیک گاندھی جی سیاستداں ہو ں گے ۔کچھ لوگوں کے لیے وہ فلسفی ہوں گے ،کچھ لوگوں کے لیے وہ آزادی ہند کے جاں نثار سپاہی ہوں گے اور کچھ لوگوں کے لیے و ہ محض ایک اچھے انسان ہوں گے ۔سیاست میں رہتے ہوئے انسان کا اچھا انسان بنے رہنا کچھ دشوار سا عمل ہے۔مگر گاندھی جی کی یہ خوبی تھی کہ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے ایک اعلیٰ انسان تھے ۔

بقول مولانا آزاد اچھا انسان ہونا ایک ایسی عظمت ہے جو بڑی عام سی دکھائی دیتی ہے مگر کم ہی خوش نصیبوں کےحصے میں یہ خصلت آتی ہے ۔واقعی گاندھی جی بہت اچھے انسان تھے۔ ایک مرتبہ جب بنگال کے نواکھالی علاقے میں خطرناک قسم کے ہند و مسلم فسادات چل رہے تھے تو گاندھی جی گھر گھر جاکر خیر سگالی کا پیغام دےرہے تھے ۔ یہ واقعہ راقم کے والد نورالدین احمد مرحوم کے پاس کلکتہ میں مولانا کے غیر مطبوعہ تحریری خزانہ سے اخذ کیا گیا ہے ۔جب بڑا لال بازار کے ایک گھر کے زینہ سے گاندھی جی اتر ے تبھی انہیں ایک جوشیلے بنگالی مسلمان نے پکڑ لیا اور گردن گرفت میں کر کے گلا دبا نا شروع کردیا ۔ان دنوں سیکورٹی گارڈ نہیں ہوا کرتے تھے ۔ اس سے قبل کہ مولانا آزاد جو کہ اس وقت ان کے ساتھ تھے اور دیگر اکابرین جیسے مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ،مولانا حفظ الرحمٰن وغیرہ بھی ان کےساتھ تھے، یہ کوشش کرتے کہ مولانا کو چھڑائیں ،وہ شخص بولا ۔‘‘کوئی آگے نہیں آئے گا اس کافر کی کیسے ہمت ہوئی کہ یہ یہاں آگیا!’’ یہ کہہ کر اس نےگاندھی جی کو دھکا دیا، وہ دھان پان تو تھے ہی گرگئے ۔مگر گرتے ہوئے انہوں نے جب سورۃ فاتحہ پڑھی تو سب دنگ رہ گئے ۔ یہ دیکھ کر وہ بنگالی مسلمان بھی حیران رہ گیا اور دشمنی تھوک کر تاحیات ان کا چیلا بن گیا۔ اس کا نام تھا عبدالرحمٰن منڈل ۔

http://newageislam.com/urdu-section/گاندھی-جی-کی-زخمی-بکری/d/1832