Pages

Showing posts with label مردوں. Show all posts
Showing posts with label مردوں. Show all posts

Monday, June 18, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط ‘‘اے’’49, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط ‘‘اے’’49

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

توکیا مرد کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوگی ۔پس شوہر کو زوجہ اور زوجہ کو شوہر کے خیالات کا ضرور لحاظ رکھنا چاہئے ۔ نکاح کے بعد شوہر وزوجہ کی زندگی اس قسم کی ہوجاتی ہے کہ اس کو آرام سے گذارنے کےلئے دونوں میں سے ہر ایک کو خوشی لازم وملزم ہوتی ہے لیکن زمانہ کے ڈھنگ اور ملک کے رواج نے کچھ ایسی افتا د ڈالی ہے کہ عورت کے ناخوش ہونے سے شوہر کو اس قدر تکلیف نہیں پہنچتیں جس قدر شوہر کے ناخوش ہونے سے زوجہ کو پہنچتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ مردوں نے بے غیرتی اور بے شرمی اختیار کر کے اپنے دل خوش کرنے کے ایسے ناپاک ذریعہ پیدا کرلئے ہیں جن نیک سرشت عورتیں خواہ کتنی ہی تکلیف کیو نہ اٹھائیں اختیار نہیں سکتیں ہم نے اس رسالہ میں مستورات کے جن حقوق پر زور دیا ہے اس کو تسلیم کرنے والے بہت کم نکلے گے اس لئے از زمان بے انصافی اور خود پسندی میں مستورات کو ہر گز صلاح نہیں دیتے کہ وہ ان حقوق پر خور زور دیں بلکہ وہ اپنے صبر پر قائم رہیں او ریقین کریں کہ اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ہم مستورات کےلئے چند ہدایات لکھتے ہیں اگر وہ ان پر کار بند ہونگی تو امید ہے کہ اپنے شوہروں کی نظر میں محبت اور الفت کی جگہ پائیں گی اور وہ اشارات ایسے ہیں جن کو سلف سے آج تک سب نے تسلیم کیا ہے اور اکثر ان کی خلاف ورزی ہی باعث رنجش شوہر ہوتی ہے چنانچہ وہ ہدایات یہ ہیں۔

http://www.newageislam.com/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط--‘‘اے’’49/urdu-section/d/2298


عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:دوسری قسط, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:دوسری قسط

مولوی ممتاز علی کی مائیہ ناز تصنیف ‘‘حقوق نسواں’’

دلیل اوّل جو قوت جسمانی کی فضیلت پرمبنی ہے محض ایک بے سند قول ہے جس کوکسی طرح دلیل نہیں کہہ سکتے۔ ہم نے تسلیم کیا کہ مردوں کوعورتوں کی نسبت قوت جسمانی زیادہ حاصل ہے۔ لیکن اس سے یہ کس طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ قوت جسمانی اسی شئے ہے جس کی وجہ سے مردمن حیث الانسان عورتوں پر شرف وفوقیت رکھتے ہیں۔

قوی الاعضا کے لئے قوت کا کام اور ضعیف الاعضا کے لئے آسانی کے کام مخصوص ہونے بھی بالبد اہت ظاہر ہیں۔ کون کہتا ہے کہ محنت ومشقت وجفا کشی کے کام مردوں کو نہیں ملنے چاہئیں ۔مرد شوق سے محنتیں اٹھائیں ۔پہاڑ کاٹیں ۔درخت کاٹیں۔ انسانوں کے گلے کاٹیں یا او رکام جن کو ان کی سختی اور سخت دلی مقتضی ہو وہ کریں ۔مگر سوال تو یہ ہے کہ آیا اس قسم کے افعال کی طاقت ہونے سے انہیں کسی سچی فضیلت یا شرافت حاصل ہونے کا دعویٰ پہنچتا ہے۔ جس کا جواب دلیل مذکورہ میں مطلق موجود نہیں ۔ ہمارے اس سوال کا جواب اور استدلال مذکورہ بالا بھذاپن اور بے محل ہونا پورے طور پر اس طرح ظاہر ہوسکتا ہے کہ بجائے عورتوں او ر مردوں میں مقابلہ کرنے کے یہ ہی دلیل اگر مردوں اور چوپایوں میں مقابلہ کرنے کےلئے یوں قائم کی جائے کہ چونکہ چوپایوں کو خدانے مردوں سے زیادہ طاقت جسمانی بخشی ہے، اس لئے ان کو مردوں پر فوقیت وفضیلت حاصل ہے تو اس استدلال کو بھی لا محلہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ دونوں منطقی دلیلیں بالکل ٹھیک ہیں اور صحیح نتیحہ نکلنے کا جتنی شرائط ہیں ہو سب موجود ہیں اور نتیجے بھی صحیح ہیں۔ پس استدلال مذکورہ بالا کی بنا پر مردوں کو اگر عورتوں پر کوئی فضیلت ہے(بشرطیکہ اس کو لفظ فضیلت سے تعبیر کرنا جائز ہو) تو و ہ ایسی ہی ہے جیسے بہا یم کو مردوں پر ہے۔ لیکن اگر اس سے کہ گدھے میں ایسا بھاری بورا اٹھا نے کی طاقت ہے جو مرد نہیں اٹھا سکتا ۔گدھے کی فضیلت ثابت نہیں کرتا تو مرد بھی اس امر سے اپنی فضیلت ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ عورتوں کی نسبت اعمال شاقہ برداشت کرنے کی زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔

http://www.newageislam.com/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-دوسری-قسط/urdu-section/d/2060


Sunday, June 17, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 13, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 13

ایک یونیورسٹی کا سند یافتہ ریل میں سوا رہوتا ہے اور اپنے درجہ میں تین چار اور شخصوں کو پاتا ہے جن میں تین بے علم مہاجن ہیں اور ایک مڈل کلاس کا طالب علم۔ کون شک کرسکتا ہے کہ یہ دنیا مسافر سب سے اول اس طالب علم سے ہی گفتگو کرے گا اور اپنا گھنٹہ دو گھنٹہ سفر اسی گفتگو کے ذریعہ سے جس سے درحقیقت اس کو ایک حرف کا فائدہ علمی نہیں ہے خوش ہوکر گذار ے گا۔ ہم نے کسی شخص کے روبرو ایک شعر پڑھا ۔ وہ نہایت مخطوط ہوا اور دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ بتلاؤ ہمیں کیا فائدہ علمی اس سے حاصل ہوا مگر اس کی صحبت سے خوشی حاصل ہونے میں کچھ شک نہیں ۔ بہت کم تعلیم یافتہ خوش مذاق نوجوان ایسے نکلیں گے جو برابر تین چار گھنٹہ تک جاہل آدمیوں کی لغو گفتگو سننے کا تحمل رکھتے ہوں۔ وہ بہت جلد اس گفتگو سے اکتا جائیں گے اور اس صحبت سے مخلصی حاصل کرنا چاہیں گے ۔ یہ تکلیف جب شوہر کو زوجہ کی طرف سے ملتی ہوتو بے حد درد ناک ہوتی ہے ۔ کیو نکہ زوجہ کی معیت لحظ دولحظ کی نہیں ہوتی بلکہ عمر بھر کی۔ اس لئے بجزان لوگوں کے جو شادی کا اصول یہ بیان کرتے ہیں کہ روٹی ٹکڑے کا آرام ہوجائے او رکوئی شخص ایسی بیوی کی صحبت کو سوائے اوقات ضرورت کے گوارا نہیں کرتا ۔ ہم نے بہت سے بد چلن لوگوں سے ان کی بدچلنی و بدوضعی کا آغاز پوچھنے پر معلوم کیا کہ انہوں نے کسی کی صحبت صرف اس وجہ سے اختیار کی کہ اس کا کلام نہایت مودب اور نہایت شستہ تھا اور اپنے کلام کو وہ شعر وسخن سے زینت دیتی تھی۔

پس اگر عورتوں میں ہم مذاق علمی پیدا کریں تو گو وہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کا ہوتب بھی وہ ان کو اس سطح پر لا کر جس پر اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اشخاص ہیں مردوں کی خوشی اور مسرت کا عمدہ ذریعہ بنا دے گا اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے خالی اوقات کو صرف کرنے کے لئے بجائے اس کے کہ دوستوں یا اور غیر لوگوں کے مکانات کی مجالس دل لگی ڈھونڈتے پھر یں یا آوار گی اختیار کریں اپنی لکھی پڑھی بیبیوں کو سب اچھا ذریعہ اپنے دل بہلانے اور اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی خوشی بڑھانے کا پاویں گے ۔ جب ہمارا خیال غرض تعلیم نسواں کی نسبت معلوم ہوگیا تو ظاہر ہے کہ ہم ایسے علوم کی تعلیم کے موید ہوں گے ۔ جن سے معمولی نوشت و خواند کے علاوہ عام طور پر ہر قسم کے مضامین پر آگاہی حاصل ہو اور اگر کسی مجلس میں کوئی علمی تذکرہ ہوتو لڑکیوں کی جہالت موجب تکدر خاطر اہل مجلس نہ ہو۔ اس غرض کے حصول کے لئے سوائے معمولی اردو فارسی کی کتابوں کے لڑکیوں کو علم طبیعات اور جغرافیہ طبعی اور کمیسٹری اور ہیئت کے موٹے موٹے مسائل سلیس اردو زبان میں سکھانے چاہئیں ۔ اس قسم کے اکثر مسائل بنات النعش میں بیان کئے گئے ہیں۔مگر ہم چاہتے ہیں کہ کس قدر اور تفصیل سے ان کو تین علحدہ علحدہ رسالوں میں بیان کیا جائے ۔ اور وہ ابتدائی رسالے علم طبعی ۔جغرافیہ طبعی ۔علم ہئیت کے کہلائیں ۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-13/d/2112


Saturday, June 16, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 16, Urdu Section

Urdu Section

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 16

عورتوں کے متعلق جتنے امور کی نسبت بحث کی جاتی ہے ان سب میں پردہ کی بحث نہایت اہم ہے کیا بلحا ظ نتائج اور کیا بلحاظ اس امر کے اس میں تبدیل و ترمیم کرنا سخت مشکل امر ہے پردہ حقیقت میں انسان کے لئے خواہ مرد ہو خواہ عورت فطری شے ہے۔ انسان کی فطرت میں وہ خصوصاً عورت کی فطرت میں وہ اخلاقی اصول پایا جاتا ہے جو انسانی جماعت کے تہذیب یافتہ تمدن میں تربیت و تکمیل پاکر پردہ کہلاتا ہے یہ صحیح ہے کہ انسان محض برہنہ پیدا ہوا ہے مگر وہ اپنے آپ میں ایک محرک پاتا ہے جو نہ صرف گرمی وسردی رفع کرنے کےلئے بدن کو چھپانے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ بلالحاظ گرمی وسردی کے بعض اجزا بدن کو چھپا نے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ اصول تہذیب انسانی جن کو شریعت نے تکمیل کو پہنچایا ہے اپنی ابتدا ئی فطرت میں اس دھندلی سی حالت سے زیادہ وجود نہیں رکھتے اور اس امر کی ثبوت کے لئے فلاں حکم شرعی مطابق اصول فطرت ہے یہ ہی امر ضرور ہوتا ہے کہ انسان کی طبعیت میں اس اصول کی تعیین و تخصیص و تصریح ملنی ناممکن ہے۔

ہر انسان میں کسی قدر شرم وحیا منجملہ دیگر اصول اخلاقی کے پائی جاتی ہے اور عورت میں خصوصاً اس اصول کی فطرتاً زیادہ تکمیل پائی جاتی ہے ۔ یہ ہی اصول وہ بیچ ہے جو شریعت کی آبیاری سے پھول پھل کر پردہ کی تعین وتخصیص کی خوبصورت شکل حاصل کرتا ہے۔ پس جو لوگ پردہ کو خلاف فطرت اور انسانی ایجاد تصور کرتے اور جن شریعتوں نے اس کی تکمیل کی ان کو خلاف فطرت سمجھ کر جھوٹی بتلاتے ہیں اور سخت غلطی پر ہیں۔ البتہ یہ دیکھنا ہے کہ پردہ نے جو زمانہ حال میں ہندوستان کے مسلمانوں اور بعض دیگر ممالک کے مسلمانوں میں صورت اختیار کی ہے اور جس کی بعض ناواجب قیود اہل یورپ یا ہر صاحب انصاف کی نظر میں باعث تذلیل فرقہ اناث سمجھی جاتی ہیں اس کا جواب وہ مذہب اسلام ہے یا کوئی اور مذہب اسلام صرف اس قدر پردہ کا جواب دہ ہے جس کو اس نے اصول فطرت انسانی کی بنا پر مکمل کیا اور جو خود فطرت انسانی کے خالق کی مرضی ہے۔ مگر جس طرح مذہب اسلام کی اصلی تعلیم اکثر صورتوں میں بدل گئی یا لوگوں نے اس پرعمل کرنا ترک کردیا اسی طرح احکام پردہ کے باب میں حال ہوا۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-16/d/2119


عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 20, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 20

علی اور ابن عباس کے قول کے سوا اور کسی قول سے وہ مطلب حاصل نہیں ہوتا جس کا ثابت کرنا یہاں مطلوب ہے لیکن ان کا قول بھی استدلال مطلوبہ کے لئے غیر واضح ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ سرمہ کی جگہ آنکھ ہے نہ کہ کل چہرہ اور اسی طرح انگشتری کی جگہ انگلیاں ہیں نہ کہ کل ہاتھ۔ اور جو ا مر ثابت کرنا ہے وہ ہے کہ اجنبی عورت کے کل چہرہ اور کل ہتھیلی کی طرف نظرکرنا جائز ہے۔ لیکن صاحب فتح القدیر کا اس نکتہ چینی کرنے سے یہ منشا نہیں کہ اجنبی عورت کے کل چہرہ اور ہتھیلی کا دیکھنا جائز ثابت کیا جائے بلکہ صرف یہ ہے کہ اس باب میں علی اور ابن عباس کے قول سے استدلال کرنا خوب نہیں ہے ۔چنانچہ انہوں نے خود آگے چل کر تین احادیث سے استدلال کرکے اجنبی عورت کے کل چہرہ اور ہتھیلی کے دیکھنے کا جواز ثابت کیا ہے۔ پہلی حدیث میں جو انہوں نے لکھی ہے بیان کیا گیا ہے کہ ایک عورت نےاپنے تئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ۔ پس آپ نے اس کے چہرہ پر نظر کی اور اس کی طرف اپنی رغبت نہ پائی۔

دوسری حدیث یہ ہے کہ اسمابنت ابوبکر باریک کپڑے پہنے ہوئے تھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیا اور کہا کہ اے اسما جب لڑکی بالغ ہوجائے تو مناسب نہیں کہ اس کا بدن سوائے اس کے اور اس کے منہ اور ہاتھ کی طرف اشارل کر کے نظر آوے۔

3۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنا کوئی سا بیٹا بلال یا انس کو دیتیں تو بلال یا انس کو کو دیتیں تو بلال یا انس کہا کرتے تھے کہ ہمیں حضرت فاطمہ کا ہاتھ چاند کا ٹکڑا سامعلوم ہوا کرتاتھا۔ پس ثابت ہوا کہ عورت کے منہ اور ہاتھ کی طرف نظر کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ یہ روایت تو عام طور پر منہ او رہاتھ کے کھلے رہنے کے جواز میں ہیں۔ان کے علاوہ وہ روایات ہیں جن سے نکاح کے ارادہ سے عورت کو دیکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ثابت ہوتا ہے۔ ایسی روایات کثرت سے ہیں ہم اس جگہ صرف تین چار احادیث کا ذکر کرتے ہیں۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-20/d/2141