Pages

Showing posts with label مذمت. Show all posts
Showing posts with label مذمت. Show all posts

Wednesday, June 13, 2012

آئین کی حکمرانی جناب،آئین کی حکمرانی, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
آئین کی حکمرانی جناب،آئین کی حکمرانی
مٹی کے بنے اپنے چھوٹے سے کمرے میں سے تنہا نکل کر گلی میں وہ پیدل چلتے اور بچوں سے باتیں کیا کرتے۔ راہ گیر انہیں روک لیتے ۔ ان کے اصحاب میں فکر ونظر کا اختلاف ہوتا ۔ اللہ اور رسولﷺ کے وہ اطاعت گزار تھے اور سچے دل سے مگر ایک لشکر کے مانند نہیں بلکہ طالب علموں کی طرح۔ عرض کیا ،یارسول اللہ ﷺ ،عمر سے بخشی۔ اپنی صاحبزادی سے برہم ہوئے تھے کہ بے شک تم امہات المومنین میں سے ایک ہومگر تمہاری مجال کیا کہ عائشہ صدیقہؓ کی ہمسری کرو۔ہو ابوبکر کی لخت جگر ہیں۔ انہیں حکم دیا جاتا تو اطاعت کے سوا کیا کرتے مگر آپ ﷺ نے کہا تو یہ کہا ‘‘کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگ ابوبکرؓ کو میرے لئے معاف کردیں’’۔جسے حکم کا اختیار اللہ نے دیا تھا ، اس کا عالم تو یہ تھا کہ پیہم تعلیم اور دائم صبر وتحمل ۔ دائم سچائی مگر دائم صبر کے ساتھ، حکمت اور حسن اخلاق کے ساتھ۔ ہمارے ‘‘مجاہدین ’’ کیا ہیں؟غیظ وغضب کے پیکر ۔حضرت مولانا صوفی محمد ہی کا علم واجبی نہیں، ان سب کا ۔ فرقہ پرستی کے مارے۔ کیا ان میں ایک بھی ہے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل کی دل سے مذمت کرے۔ وہ کہتے ہیں ،امریکہ سفاک ہے ۔جی ہاں سفاک ہے۔بھارت سازشی، جی ہاں سازشی۔ کابل میں روس اور پھر امریکہ کے در آنے سے طوفان جاگا ۔بالکل بجا ارشاد ،مگر اس کا مطلب یہ کیسے ہوا کہ لوگ اپنے گروہ بنالیں اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے پھریں ۔سکھوں سے وہ جزیہ وصول کریں بلکہ مسلمانوں سے بھی ۔سیکڑوں واقعات ہیں کہ طالبان نے جبراً شادیاں کیں ۔ بچوں کو اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے خود کش حملے الگ، کیا کسی کو حق تھا کہ نیویارک کے بے گناہ شہریوں کو زندہ جلادے۔ حد ہو گئی ، کوئی پورا سچ بولنے والا نہیں ۔ کوئی نہیں کہتا کہ فسادیوں کے یہ گروہ ملک کو برباد کردیں گے، وہ دشمن کے مددگار ہیں، منشیات وہ بیچتے ہیں، بھتہ وہ لیتے ہیں ،امریکہ دشمن ہے مگر وہ بھی تو دشمن ہیں
http://newageislam.com/urdu-section/آئین-کی-حکمرانی-جناب،آئین-کی-حکمرانی/d/1445

پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازش ؟, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازش ؟
ہارون عدیم
گزشتہ د نوں ایک نجی چینل پر ایک ٹاک شو میں گفتگو کے شرکا ایک بار پھر تقسیم کرنے کی بات کررہے تھے جبکہ فخر زمان (چئیر مین اکیڈمی اور بیات) اس بات کا دفاع کررہے تھے کہ پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب کو تقسیم کرنا ہے تو پھر دوسرے صوبوں کو بھی ڈویزنل لیول پر تقسیم کردیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ جمہوریت دشمن پنجاب کے جمہور کی اعددی اکثریت کو ختم کرنے کی بات نہ کرتے ہوں، اور نہ ہی یہ پہلا موقع ہے کہ فخر زمان یا اس کے رفیق اس کا دفاع نہ کررہے ہوں۔ جب جب کوئی ایسی آواز اٹھی ہے فخر زمان اور اس کے ہم نواؤں نے اس سوچ کی سختی سے مذمت کی ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب موقع آگیا ہے کہ پنجابیوں کو پہلےپنجابی بننا ہوگا ۔کیونکہ پنجاب کو اب بھی پاکستان کا ‘‘ماما’’ بننے کا بخار ہے ، اور پاکستان کو متحد اور قائم رکھنے کا جنون ۔پنجاب کے اس کردار نے دوسرے صوبوں کو پاکستان کے خلاف کردیا۔لہٰذا نوکر شاہی کی سازشوں اور طالع آزماؤں کی ریشہ دوانیوں کا سارا غصہ پنجاب پر نکلتا ہے۔ 80کی دہائی کے اوائل میں محمد حنیف رامے مرحوم نے ‘‘پنجاب کا مقدمہ’’ لکھ کر پنجابیوں کو یہ احساس دلایا کہ پاکستان کو ‘‘متحداور قائم’’ رکھنے کی ذمہ داری صرف پنجاب کا حصہ نہیں بلکہ یہ دوسرے صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے، پنجابی جتنی جلدی ‘‘پاکستان کے مامے’’ بننے کے بخار سے چھٹکارا پالیں گے یہ ان کے اور پاکستان کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ لہٰذا پنجابیوں کو آہستہ آہستہ یہ بات سمجھ میں آنی شروع ہوئی کہ پنجابیوں کو خود کو ‘‘پاکستانی’’ثابت کرنے کے بجائے دوسرے صوبوں کے عوام کی طرح پہلے اپنی صوبائی شناخت کو اپنانا ہوگا اور پھر پاکستانی بننا ہوگا۔ کیونکہ کراچی میں بسنے والے ‘‘مہاجر پاکستانی’’خود کو ‘‘سندھی پاکستانی’’ کہلانے کی بجائے ‘‘مہاجر’’ کہلوانے پر بضد تھے، اور بلوچی، سندھی اور پٹھان اپنی ‘‘نسلی شناخت’’ کو سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما ولی خان نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ پہلے پختون 1400سال پرانے مسلمان اور 36سال پرانے پاکستانی ہیں
http://newageislam.com/urdu-section/پنجاب-کو-تقسیم-کرنے-کی-سازش-؟/d/1464