Pages

Showing posts with label تصنیف. Show all posts
Showing posts with label تصنیف. Show all posts

Wednesday, June 20, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 50, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 50

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

اور اگر علیحدہ رہے تو دور رہنا ا س کے ناک ،کان آنکھ سب کا ادب کرنا۔ اس طرح کہ تجھ سے بجز خوشبو کے او ر کچھ نہ سونگھے ۔ اس کے کان جب سنیں تب اچھی بات سنیں ۔ اس کی آنکھیں جب دیکھیں تو اچھی بات دیکھیں۔’’

اس خالص اور بے غرضانہ محبت کا اس زمانہ کی عورتوں میں وجود نہیں۔ ان کی محبت اور الفت کا تھرما میٹر زیور اور لباس ہے۔ جتنی یہ چیزیں بڑھتی ہیں اتنا ہی محبت کا درجہ بڑھتا ہے ۔ جتنی ان میں کمی ہو محبت والفت بھی سکڑتی جاتی ہے۔ کہنے کو تو عورتیں کہہ دیں گے کہ نہیں نہیں ہمیں شوہر سے نہایت سچی الفت ہے اور شوہر کے ہوتے کسی چیزکا ہمیں مطلق خیال نہیں لیکن وہ دل میں سوچیں کہ جب ان کی کوئی ادنیٰ سی فرمائش پوری نہیں کی جاتی تو ان کی طبعیت کی کیا حالت ہوتی ہے۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-50/d/2308


Tuesday, June 19, 2012

عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نیتجہ ہے، جو مرد انہ شاونیت (Chauvanism)کےشکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت ’’ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی تصنیف اور اس کے مضامین میں آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گےاور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیرمقدم کیا جائے گا۔ ۔۔ایڈیٹر

دوم زندگی بھر کےلئے ایک مونس شفیق و ہمدرد مخلص منتخب کرلینا ۔اور نکاح کا کامل یا ناقص ہونا اسی امر پر موقوف ہے کہ جو نکاح کے اصلی اغراض ہیں اور کسی حد تک پورے ہوتے ہیں ۔ اس لئے نکاح کے کامل اور مفید ہونے کےلئے ضروری ہے کہ وہ سب شرائط جن سے اغراض نکاح کا حصول باحسن الوجوہ ہوتا ہو پورے کئے جائیں۔

جس قدر ان شرائط کے پورا ہونے میں کوتاہی ہوگی اسی قدر نقص نکاح میں باقی رہے گا۔ پہلے مقصد کے حصول کے لئے فریقین ازدواج کی صحت کا عمدہ ہونا اور ایک خاص حد عمر کو پہنچ جانا ضروری ہے کیو نکہ ایسے فریقین ازدواج کی اولاد جن کے قویٰ جسمانی اپنے پورے درجہ نشو ونما تک نہیں پہنچے بجائے اس کے کہ بموجب بقائے نسل انسان ہو بوجہ نسل ناقص ہونے کے موجب فنائے نسل انسان ہوتی ہے دوسرے مقصد کے حصول کے لئے بھی فریقین ازدواج کا ایسی عمر کو پہنچ جانا ضروری ہے ۔ کہ وہ اس دوامی معاہدہ کی وقعت اور اس کے فرائض کی جوابدہی اور اس کے اہم نتائج کو سمجھ سکتے ہوں اور ان کے اس انتخاب میں بجز مشورہ مشفقانہ اور نصیحت بزرگانہ کے کوئی ایسا امر وقوع میں نہیں آناچاہئے جو ان کی آزادی رائے کو دبا کر جبراً ایسا تعلق پیدا کرنے کی طرف مائل کرے جو حقیقت میں ان کو پسند ہو یا جس کی طرف ان کو پوری دلی رغبت نہ ہو۔ اس حد عمر عرف شرح میں بلوغ اور اس آزادی کو ایجاب وقبول سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اہل اسلام ہندوستان میں جو نکاح عمل میں آتے ہیں ان سے یہ اصلی اغراض نکاح حاصل ہوتی ہیں یا نہیں ۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-29/d/2188


Monday, June 18, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 38, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 38
حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

مہر کی تعداد کسی حالت میں جب فریقین کی حیثیت مالی اجازت دے تو قلیل نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ بھی ایک عام غلطی ہے کہ لوگوں نے ایک قلیل حقیر مقدار کو شرعی مہر سمجھا ہواہے۔ اس مہر کو بجائے شرعی مہر کی نبوی مہر کہیں تو بجا ہے یعنی یہ وہ مقدار ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازدواج مطہرات کی مقرر کی یا اپنی بیٹیوں کے لئے مقرر کرایا مگر آپ نے کوئی حکم امت کو اس قدر مہر کے مقرر کرنے کا نہیں دیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دامادوں کے اخلاق ایسی اعلیٰ درجہ کی روحانیت اور تقدس پر پہنچے ہوئے تھے کہ ان سے بہتر اخلاق اور نیک دلی اور حسن معاشرت کا خیال پیدا ہونا مشکل ہے۔ جو لوگ اپنے دامادوں سےاپنی بیٹیوں کے ہمراہ ایسے نیک سلوک کی امید رکھ سکتے ہیں جیسی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازدواج مطہرات سےکرتے تھے اور وہ بے شک ایسے قلیل مہر کو اپنی اولاد کے حقوق کی حفاظت کے لئے کافی سمجھیں ۔مگر خیالات وچال چلن شیطانی رکھنا اور سنت نبوی کی پیروی کا دعویٰ کرنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-38/d/2231


عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 40, Urdu Section,

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 40

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر

پس دو چار دفعہ کے ٹلانے سے ہمارا کچھ حرج نہ ہوگا بلکہ ہماری عزت بڑھے اور انہیں ہماری چنداں پروا نہیں ہے منظوری کا خط لکھو تو دو چار جگہ کے جھوٹے سچے رشتوں کا بھی ذکر کردینا کہ فلاں فلاں جگہ سے پیغام آئے ہیں۔’’ فقط۔

اس خط میں بھاری بھرکم کے اصول کو خوب تصریح کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بجائے ایسے خطوط نہایت پر لطف اور دل خوش کرنے والے ہونے چاہئیں ۔ اس تحقیق و تفتیش کے جو ابتدا بیشک ضروری ہے اور جس کے اثنا میں بیشک عیب و صواب سب کچھ دیکھنا پڑتا ہے پھر ہر دوفریق کی نظر میں دوسرا فریق اس رشتہ کے باب میں دنیا میں سب سے بہتر قرار پانا چاہئے ۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-40/d/2243