Pages

Monday, August 31, 2015

How the U.S. Helped Create Islamic State



By Noam Chomsky
Aug 27, 2015
 >

The renowned linguist and activist discusses the background of Islamic State (also known as ISIS) and the United States’ role in establishing the conditions under which the extremist group developed.

Sunday, August 30, 2015

The Value of Freedom in Islam اسلام میں آزادی کی قدر و قیمت

The Value of Freedom in Islam اسلام میں آزادی کی قدر و قیمت

مولاناندیم الواجدی
21 اگست، 2015
اسلام دین فطرت ہے، اور آزادی انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے، اسلام سے پہلے انسان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، پوری دنیا دو گروہوں میں منقسم تھی کچھ لوگ وہ تھے جو تمام تر وسائل زندگی پر قابض ہونے کی وجہ سے مضبوط اور مستحکم پوزیشن میں تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار اور بالادستی ان کا پیدائشی حق ہے باقی لوگ صرف محکومیت اور اطاعت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، دوسرے گروہ کے لوگ اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے مگر کمزوری او ربے حسی نے ان کو ذہنی اورجسمانی طور پر غلام بنا کر رکھ دیا تھا، نہ انہیں فکر و خیال کی آزادی میسر تھی اور نہ عقیدہ مذہب کی ، نہ انہیں کسب معاش کاحق تھا اور نہ کسی چیز کے مالکانہ حقوق حاصل تھے جس میں وہ اپنی مرضی سے تصرف کرسکتے ۔ یہ لوگ بہ ظاہر انسان تھے مگر انسانیت کےحوالے سےجو احترام اور مرتبہ مقام انہیں حاصل ہوناچاہئے تھا اس سے بالکلیہ محروم تھے ، ان حالات میں اسلام آیا، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ، اور انسانیت کو یہ مژدہ سنایا گیا: ‘‘اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں’’ ( الاعراف :157)
دیکھا جائے تو اسلام کی آمد ان دبے کچلے لوگوں کے لیے مژدۂ جاں فزا تھی جو صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، ان ہی جیسے کچھ لوگ بالادست تھے، جو اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ جس طرح چاہتے پیش آتے، کسی میں دم مارنے کی جرأت نہ تھی، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سےایسے لوگوں کو زندگی کی اس حقیقت سے روشناس ہونے کاموقع میسر آئی ، ان میں جان و مال کی آزادی بھی تھی، فکر و خیال کی آزادی بھی تھی، مذہب و عقیدے کی آزادی بھی تھی، شخصی اور نجی زندگی کی آزادی بھی تھی، اجتماعی اور تمدنی زندگی کی آزادی بھی تھی ۔
سب سے پہلے تو آپ انسان کی جان کو لیجئے ، اس سے زیادہ بیش قیمت کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی ، اسلام سے پہلے اس کی کوئی قیمت نہیں تھی، اگر تھی تو صرف ان لوگوں کی جان بیش قیمت تھی جو اقتصادی اور سیاسی طور سےمضبوط تھے اور جن کے پیچھے خاندانی نظام کی طاقت تھی، باقی لوگ حشرات الارض کی طرح حقیر تھے، جو چاہتا انہیں پاؤں تلے کچل دیتا، اسلام نے یہ اعلان کرکے ہر ذی نفس کو زندہ رہنے کی آزادی سے نوازا: ‘‘ جو شخص کسی ایسی جان کو قتل کرے جس نے قتل نہ کیا ہو اور نہ اس نے روئے زمین پر فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا او رجو کسی انسانی زندگی کی بقا کا سبب بنا تو اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی ’’ ( المائدۃ :32)
انسانی جان کے تحفظ اور بقا کا یہ اعلان تمام انسانوں کے لیے ہے، اس میں کسی مسلم غیر مسلم اپنے پرائے کی تخصیص نہیں ہے، انسان کو زندہ رہنے کی جو آزادی عطا کی گئی ہے اس کے تحفظ کےلیے اسلامی شریعت میں قصاص کا ایک مکمل نظام ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اس آزادی کو باقی رکھنا چاہتا ہے اور اگر کوئی شخص دنیوی سزا کے اس نظام سے بچ بھی جائے تو اس کےلیے اخروی عذاب کی اس قدر ہول ناک وعیدیں ہیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی سلیم الفطرت شخص کسی کی یہ آزادی سلب کرنے کی جرأت کرہی نہیں کرسکتا ، پھر جان کی آزادی صرف یہ ہی نہیں کہ وہ زندہ رہے مگر اسے کسی طرح کاکوئی حق حاصل نہ ہو، نہ وہ کوئی اختیار رکھتا ہو، اسی لیے اسے حقوق و اختیارات بھی دیئے گئے تاکہ وہ اپنی مرضی سےزندگی گزارسکے، جان کے بعد اگر کسی کو کوئی چیز عزیز ہوتی ہے تو وہ مال و دولت ہے،اسلام انسان کو مال کمانے کی اجازت بھی دیتا ہے اور اس میں تصرف کرنے کی آزادی بھی عطا کرتاہے، بہ شرط یہ کہ یہ کسب و انفاق جائز حدود کے اندر ہو، اس میں بھی مرد و عورت حاکم و محکوم کی کوئی قید نہیں ہے، ہر شخص اس کےلیے آزاد ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مفہوم: ‘‘مردوں کےلیے حصہ ہے اس میں جو وہ کمائیں اور عورتوں کےلیے حصہ ہے اس میں جو وہ کمائیں ’’ (النساء:32)
اسلام نے نہ صرف یہ کہ انسان کو جسمانی آزادی دی بلکہ دوسری نوع کی آزادیوں سےبھی نوازا ، اس کو عزت و وقار عطا کیا، عدل و انصاف کے تقاضوں میں مساویانہ حقوق دیئے ، اظہار کی آزادی عطا کی، صرف احرار ہی کو نہیں بلکہ غلاموں کو بھی ان حقوق میں شریک کیا، ایک روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو آزادی ملی تو انہیں شریعت کی طرف سے خود بہ خود یہ اختیار مل گیا کہ وہ اپنے شوہر حضرت مغیث رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں رہیں یا اس رشتے کو ختم کردیں، انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ مغیث رضی اللہ عنہ کی نکاح میں نہیں رہیں گی،حضرت مغیث رضی اللہ عنہ یہ رشتہ باقی رکھنا چاہتے تھے ، اس مقصد کے لیے انہوں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مغیث رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں رہو۔ حضرت ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ آپ کا حکم ہے یا رسول اللہ ! فرمایا نہیں ! بلکہ سفارش ہے۔ عرض کیا پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، اظہار خیال کی آزادی کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ایک شخص نے برسرمنبر خطبہ دیتے ہوئے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر خلیفہ کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ہم آپ کو خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے اور آپ کی اطاعت اس وقت نہیں کریں گے، جب تک آپ اس کپڑے کےمتعلق صحیح بات نہیں بتلائیں گے جو آپ کے بدن پر ہے۔ ایک بوڑھی عورت نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سر راہ روک کر کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ وہ دن یا دکرو جب عکاظ کے بازار میں لوگ تمہیں عمیر کہاکرتے تھے ، کچھ دنوں کے بعد لوگ عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اور اب تم امیر المومنین ہو، خدا سےڈر کر کام کرنا، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےانسانی فطرت کے اس پہلو کی ہمیشہ رعایت کی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اظہار خیال کا پوراپورا موقع عنایت فرمایا ہے،بعض انتظامی امور میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ منصب نبوت کا احترام ملحوظ رکھ کر مشورے دیا کرتے تھے، اور وہ مشورے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں قبول بھی کئے جاتے تھے، غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں قبول بھی کئے جاتے تھے، غزوہ ٔ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں رہ کر مقابلہ کرنا چاہئے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کےمشورے پرعمل کرتے ہوئے مدینہ منورہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا، اسی طرح غزوہ ٔ بدر کے قیدیوں کےمتعلق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ سےمشورہ کیا گیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پرعمل کر تے ہوئے ان کو زد فدیہ لے کر رہا کردیا گیا ، تاہم اسلام میں اظہار رائے کی آزادی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کسی پر لعن طعن کیا جائے، کسی کی توہین کی جائے، اظہار رائے ہو مگر حدود و قیود کے ساتھ ہو، بڑوں کی تعظیم بھی ملحوظ رہے ، حکام کا وقار بھی باقی رہے آج جس اظہار رائے کا شور ہے وہ اسلام کی نظر میں مستحسن نہیں ہے، کیونکہ اس میں اپنی رائے کا اظہار مقصود نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی توہین اور دلآزاری مقصود ہوتی ہے اسلام کو تو یہ بھی گوارا نہیں کہ اظہار رائے کا حوالہ دےکر معبودان با طلہ کو برا کہا جائےحالانکہ کہ یہ براہِ راست مقام الوہیت کے خلاف بغاوت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ مفہوم: ‘‘ اور بر امت کہو ان کو جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں ’’( الانعام :108)
اسی سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اسلام انسان کو مذہبی آزادی بھی عطا کرتا ہے حالانکہ اسلام کے خلاف روز اول سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ دین تلوار کے زور سے پھیلا ہے، اور مسلمانوں نے یہ جبروا کراہ دوسروں کو اپنا دین چھوڑ نے پر مجبور کیا ہے، یہ ایک غلط پروپیگنڈہ ہے، پوری اسلامی تاریخ میں زبردستی کی کوئی مثال نہیں ملتی، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسلام سےروکنے کے لیے ضرور زبردستی کی گئی ہے، جو لوگ اسلام کے دامن میں پناہ لے چکے تھے، یا پناہ لینا چاہتے تھے، انہیں وحشتناک اذیتیں دی گئیں اور ان پر سخت ترین تشدد کیا گیا ، تاریخ کی کتابیں اس طرح کے واقعات سےبھری پڑی ہیں، اس کے برعکس اسلام انسان کے لئے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتاہے اور اس سلسلے میں وسعت ظرفی اور فراغ حوصلگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کرتاہے کہ مفہوم : ‘‘ دین کے سلسلے میں کسی طرح کی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی کےمقابلے میں قطعاً واضح ہوچکی ہے’’( البقرۃ :34)
ایک جگہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ‘‘ آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگ مسلمان ہوجاتے کیا آپ ایمان قبول کرنے کے لیے لوگوں پر زبردستی کریں گے’’ (یونس:99)
ایک جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں آیا ہے ۔مفہوم ‘ آپ نصیحت کیجئے ، آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ ان کے اوپر مسلط نہیں ہیں ’’ ( الغاثیۃ:21۔22)
ایک اور آزادی جس کا ہم بہ طور خاص ذکر کریں گے وہ انسان کی نجی زندگی کی آزادی ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو آزادی اور خود مختاری عطا کی ہے وہ اپنے بودوباش میں، رہن سہن میں ، بول چال میں، طرز معاش میں ، طرز معاشرت میں ، شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے مکمل طور پر آزاد ہے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ فرد کے ان کے حقوق میں کسی طرح کے مداخلت کرے، اسی لیے تانک جھانک سے ، تجسس سے ، عیب جوئی سے ، غیبت سے اور افشائے راز سےمنع کیا گیا ہے کہ ان چیزوں سے فرد کی خود مختاری اور نجی زندگی پر ضرب پڑتی ہے ، اللہ تعالیٰ کو یہ آزادی اس قدرعزیز ہے کہ اس نے مسلمانوں کو حکم دیا ۔ مفہوم : ‘‘ اے ایمان والو تم اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک ان سے اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو’’ ( النور :27)
اسی مضمون میں ہم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیث رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، یہ دونوں حضرات ابتدائے اسلام میں غلام تھے، غلامی کا ذکر آیا تو یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ اسلام پر مغربی دنیا کی طرف سےبرابر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے غلامی کی رسم بدجاری رکھی ، یہ الزام محض تعصب اور تنگ نظری پر مبنی ہے، مغرب کے ساتھ مصیبت یہ ہے کہ نہ اسے اسلام کی انسان دوستی اور انسانیت نوازی گوارہ ہے او رنہ اس کی جامعیت اور آفاقیت برداشت ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس طرح الزامات لگائے جاتے ہیں جب کہ بنیادی طور پر اسلام نے غلامی کی بدعت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی آمد سےپہلے غلامی اپنی تمام تر قباحتوں کے ساتھ معاشرے میں موجود تھی، یہ اور بات ہے کہ اسلام نے تمام برائیوں کی طرح اس برائی کو بھی ایک دم ختم نہیں کیا ، کیونکہ اس سےمعاشرے میں دوسرے مسائل پیدا ہوسکتے تھے بلکہ اپنے وصف اعتدال و توازن کو ملحوظ رکھ کر ترغیب و تحریض کے ذریعے اس خرابی کو اس طرح مٹایا کہ آج غلامی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔
اسلام کی آمد سے پہلے غلاموں کی باقاعدہ تجارت ہوتی تھی، معاشی اقتصادی ، زرعی، صنعتی اور نجی ضرورتوں کےلیے ان کاوجود ناگزیر تھا، غلاموں کے باقاعدہ بازار تھے ، جہاں اشیائے ضروریہ کی طرح ان کو فروخت کے لیے رکھا جاتا تھا۔قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا ، تاجروں کا ایک گروہ مصر جانےکے ارادے سےکنویں کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھاکہ کنویں کے اندر ایک حسین و جمیل بچہ موجود ہے ، تاجروں نے اس بچے کو جو حضرت یوسف تھے کنویں سے نکالا او رمصر پہنچ کر بازار غلاماں میں فروخت کردیا، اس زمانے کی متمدین کہلائی جانے والی قومیں ان غلاموں کو نہ صرف یہ کہ محنت طلب کاموں میں لگاتیں بلکہ ان کا جنسی طور پر بھی استحصال کرتیں۔ دولت مند اور اصحاب اقتدار ان غلاموں پر نشانہ بازی کی مشق کرتے ، اور انہیں بھوکے شیروں کالقمہ بنتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے، ان کو جنگوں میں استعمال کیا جاتا، تلواروں اور نیزوں کے مقابلے میں اتارا جاتا، ان کےساتھ جانوروں سے بدترسلوک کیا جاتا، ان کو پیٹ بھر کھانے اور تن ڈھانپنے کےلیے ضروری کپڑوں سے محروم رکھا جاتا، معاشرے میں غلاموں کی اس قدر کثرت تھی کہ بعض مالدار لوگ سیکڑوں غلاموں کے مالک تھے ۔ یہ لوگ اپنے غلاموں کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرتے، خود ہی فیصلے کرتے خود ہی سزا دیتے ، ظالمانہ سلوک کے لیے کوئی ان سے باز پرس تک نہیں کرسکتاتھا ۔
اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی تعلیمات سےانقلاب برپا کیا ہے ،کوئی اخلاقی پستی اور غیر انسانی برائی ایسی نہیں ہے جس کو اسلام نے اپنے قوانین کے تدریجی ارتقائے کے ذریعے ختم نہ کیا ہو، غلامی کا مسئلہ بھی بڑا سنگین تھا، اسلام نے روز اول سے اس کی سنگینی محسوس کی، وہ چاہتا تو ایک لخت اس سلسلے کو منقطع کردیتا، او رمالکان کو پابند کرتا کہ وہ بلاتاخیر اپنے غلام باندی آزاد کردیں، مگر اس نے دوسرے معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی اپنی مخصوص حکمت عملی سے کام لیا، اپنے مزاج او رلوگوں کی نفسیات کوملحوظ رکھ کر اس نے یہ طریقہ اختیا رکیا جس سے لوگ خود بہ خود غلاموں کی آزادی کی طرف مائل ہوجائیں ، اور آزاد نہ کرسکیں تو کم از کم ان کے ساتھ وہ سلوک تو کریں جس کے وہ بہ حیثیت انسان مستحق ہیں ۔ قرآن کریم نے واضح طور پر تمام انسانوں کی برابری کا اعلان ان الفاظ میں کیا ۔ مفہوم : ‘‘ اے لوگو اپنے اس پروردگار سےڈرو جس نے تمہیں ایک ہی نفس سےپیدا کیاہے’’( النساء1)
انسانی تخلیق میں وحدت کو بہ طور خاص جتلانے کامقصد دراصل اخوت کے اس رشتہ سےآگاہ کرنا ہے جو تمام انسانوں کے درمیان ہمیشہ سےموجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا، یہ رشتۂ اخوت ، مساوات انسانی کی نشان دہی بھی کرتا ہے اور اس تصور کی نفی بھی کرتاہے جس کی بنیاد پرکچھ انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے مالک بن بیٹھتے ہیں، اگر معاشرے کی ظالمانہ روش فطرت انسانی کے برخلاف کچھ کمزور لوگوں کو محکوم او رمملوک بنابھی دیتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جائے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سےمحروم کردیا جائے ، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔ مفہوم : ‘‘ اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور رشتہ داروں کےساتھ اور یتیموں کےساتھ بھی اور غریبوں کے ساتھ بھی اور قریبی پڑوسی کےساتھ بھی اور دو ر والے پڑوسی کے ساتھ بھی او رہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہ گیر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضے میں ہیں’’ ( النسا ء :36)
21 اگست ، 2015 بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی

The Story of the Prophetic Mission of Muhammad (pbuh) From the Qu’ran (Part 6) قرآنی نقطہ نظر سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تاریخ (حصہ 6): اہل کتاب اور جزیہ کا تصور

The Story of the Prophetic Mission of Muhammad (pbuh) From the Qu’ran (Part 6) قرآنی نقطہ نظر سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تاریخ (حصہ 6): اہل کتاب اور جزیہ کا تصور





نصیر احمد، نیو ایج اسلام
17 اگست 2015
مضمون کے اس حصے میں قرآن کی رو سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور "اہل کتاب" کے درمیان تعلقات کی روایت اور ان حالات کا جائزہ لیا گیا ہےجن کی وجہ سے اللہ کے فیصلے کے طور پر سورہ توبہ میں جزیہ والی آیت 9:29 کا نزول اولین مسلمانوں کے حق میں ہوا۔ اس سورت کا نزول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے اختتامی مرحلے میں اس وقت ہوا جب جزیرہ عرب کے تمام علاقے اور تمام لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی کنٹرول کے تحت آ چکے تھے۔ مکہ میں اہل کتاب بہت تھوڑے تھے اور ان کے ساتھ سب پہلاحقیقی خطاب 622 عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ میں ہوا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل مدینہ کے حالات
عرب معاشرے قبائلی قوانین اور معیار کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اور ہر شخص اپنے قبیلے کے لیے وفادار تھا اور قبیلہ کے ہر رکن کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتا تھا۔ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے درمیان کی ایک لڑائی آسانی کے ساتھ ایک مکمل قبائلی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ کفار مدینہ کے بارہ اہم قبیلے تھے اور ان کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ 617 عیسوی میں خزرج اور اوس قبیلہ کے درمیان جنگ چل رہی تھی۔ خزرج نے جنگ میں غیر جانبداری کی ضمانت کے طور پر بنو قریضہ اور بنو نضیر کے عیسائی قبیلوں سے یرغمالیوں کا مطالبہ کیا۔ ان یرغمالیوں کو خزرج نے ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد بنو قریضہ اور بنو نضیر قبیلوں نے اوس کے ساتھ اتحاد قائم کیا اور انہوں نے مل کر قبیلہ خزرج کو شکست سے ہمکنار کیا۔ باہمی شک، دھوکہ دہی اور غداری کے اس ماحول میں ایک غیر جانبدار ثالث کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہوئی جو ان تنازعات کافیصلہ انصاف کے ساتھ کرے اور قبائل کے درمیان امن کا قیام کر سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اس قدر نیک نامی حاصل تھی کہ تمام اہل مکہ آپ کو امین کہتے تھے۔
مدینہ کے بارہ اہم قبیلوں کے نمائندوں پر مشتمل مدینہ سے ایک وفد نے مدینہ کے ایک غیر جانبدار بیرونی شخص کی حیثیت سے 621 عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کمیونٹی کے لئے چیف ثالث کے طور پر منتخب کیا۔ ان بارہ نمائندوں نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلام کی دعوت کو قبول کی اور ان تمام نے ایک عہد پر دستخط کیا جس میں انہوں نے قتل، زنا یا چوری سے بچنے اور اللہ کی اطاعت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ عقبہ کے سب سے پہلے عہد کے نام سے مشہور ہے۔ مدینہ کے وفد اور ان کے شہریوں نے اپنی کمیونٹی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے اور جسمانی طور پر آپ کی حفاظت کرنے کا ایک عہد کیا۔ اس کے بعد عقبہ کا دوسرا معاہدہ ہوا جس میں 2 خواتین سمیت مدینہ کے 73 لوگوں نے عہد لیا۔
مدینہ کے لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے درمیان لانے کے زبردست مشتاق تھے ، جبکہ مکہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ مکہ میں 615 عیسوی میں مسلمانوں پر کفار قریش کے ظلم و ستم کی انتہاء ہو گئی اور مسلمانوں کا ایک گروہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ پر حبشہ (جدید ایتھوپیا) کو روانہ ہو گیا اور وہاں پناہ لینے کی کوشش کی۔ 616 عیسوی میں ایک سو سے کچھ زیادہ لوگوں پر مشتمل ایک دوسرے گروپ ہجرت نے کیا۔ سال 617 میں ابوجہل کی قیادت میں قریش نے مسلمانوں اور ان کے حامیوں کو ایک خشک وادی میں نکال دیا اور ان کے ساتھ تجارت کرنے سے انکار کر دیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا کاروبار ختم ہو گیا اور مسلمانوں تقریبا تباہی کے دہانے پر تھے۔ کسی زمانے میں ایک امیر تاجر ابو بکر نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ 619 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ام المومنین خدیجہ الکبریٰ کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد 620ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ اور چچا ابو طالب بھی اس دنیا سے چل بسے۔
ہجرت مدینہ
اس کے بعد مسلمانوں کو شمال مکہ کے یثرب نامی ایک شہر (جو کہ بعد میں مدینہ کے نام سے مشہور ہوا) میں پناہ کی پیشکش کی گئی۔ 622ء میں مسلمانوں کی یثرب منتقلی کو ہجرت کا نام دیا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنےکے لیے تمام مکی قبیلوں کی مشترکہ سازش کی خبر ملنے پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رات کے وقت میں ایک ساتھ مدینہ کو ہجرت کر گئے، جہاں اس شہر کے رہنماؤں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور تمام لوگوں نے بخوشی اسلام قبول کر لیا۔ اس ہجرت کا ذکر ایک ابتدائی مدنی سورہ انفال کی آیت 8:30 میں اور سورہ توبہ کی آیت 9:40 میں بھی ہے:
(8:30) اور جب کافر لوگ آپ کے خلاف خفیہ سازشیں کر رہے تھے کہ وہ آپ کو قید کر دیں یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو (وطن سے) نکال دیں، اور (اِدھر) وہ سازشی منصوبے بنا رہے تھے اور (اُدھر) اللہ (ان کے مکر کے ردّ کے لئے اپنی) تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر مخفی تدبیر فرمانے والا ہے۔
(9:40) اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔
میثاق مدینہ
مدینہ میں  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باہمی دفاع اور تعاون کا معاہدہ قائم کا جسے "میثاق مدینہ" کا نام دیا گیا۔ اس میثاق میں مختلف مسلم (مہاجرین و انصار)، یہودی، کافر اور مدینہ میں عیسائی گروہوں کے درمیان ایک معاہدہ کیا گیا، اور ان تمام کو ‘‘امت وحیدہ’’ یا "ایک قوم" قرار دیا گیا، اور اس طرح مدینہ میں ایک کثیر مذہبی اسلامی ریاست کی بنیاد قائم کی گئی۔ یہ عرب معاشرے کے لیے ایک خالصتا قبائلی معاشرے سے ایک قوم کے تصور کی طرف بڑھنے کا آغاز تھا جس میں کوئی فرد کسی قبیلے کے ایک رکن کی حیثیت سے اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ایک فرد اپنی انفرادی صلاحیت کے مطابق ریاست کے سامنے ذمہ دار تھا۔
میثاق مدینہ کا مقصد تمام مدنی گروپوں کے درمیان امن اور تعاون کا قیام کرنا اور ایک سماجی اور سیاسی وجود یا ایک قوم کی تشکیل کرنا تھا۔ اس میثاق میں تمام شہریوں کے لئے مذہبی معتقدات و معمولات کی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس میں غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ گفت و شنید، بیرونی حملوں سے مدینہ کے دفاع جیسے اس "نئی قوم" سے متعلق تمام اہم معاملات میں تمام متعلقہ جماعتوں کی شرکت کو یقینی بنایا گیا تھا۔ اس میثاق کے ذریعہ خواتین کی سلامتی، تنازعات کے اوقات میں کمیونٹی کی حمایت کے لئے ٹیکس کا نظام اور تنازعات کو حل کرنے کے لئے ایک عدالتی نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس میثاق میں مدینہ کو حرمت والا شہر یا "مقدس مقام" قرار دے دیا گیا تھا جہاں نہ تو کوئی ہتھیار لے جایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا خون بہایا جا سکتا ہے۔
 میثاق مدینہ کے تحت غیر مسلموں کے حقوق:
میثاق مدینہ کے تحت غیر مسلموں کے حقوق حسب ذیل تھے:
1۔ بیرونی دشمنوں سے ان زندگی اور تحفظ کی ضمانت۔
2۔ مساوی سیاسی اور ثقافتی حقوق اور مذہبی آزادی۔
ذمہ داریاں
بیرونی دشمنوں کے خلاف لڑنا اور جنگ کے اخراجات میں شریک ہونا.........
اس میثاق میں مکہ والوں کی جانب سے حملے کی صورت میں مکہ کے مسلمانوں سے لڑنے یا ان کی مدد کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا، بلکہ اس میں دوسروں کو مکہ کے مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دینے یا کسی بھی انداز میں ان کے دشمن کی مدد سے روکا گیا تھا۔
مدینہ کی مختلف جماعتیں
اگر چہ مدینہ کے تمام قبیلوں کو اجتماری طور پر ایک ہی قوم قرار دیا گیا تھا لیکن ، مدینہ میں واضح طور پر حسب ذیل بڑی جماعتیں موجودتھیں:
1۔ مہاجرین مکہ
2۔ وہ کافر قبائل جو اب اسلام قبول کر چکے تھے اور جنہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی تھی اور جنہوں نے مکہ کے تمام مہاجرین کی مدد کی تھی اور انہیں اپنے شہر میں پناہ دیا تھا جنہیں اب انصار کے نام سے جا نا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مذوکرہ بالا تمام جماعتوں کے مذہبی، روحانی اور سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:
(3:103) اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔
ان کے علاوہ مدینہ میں یہودی اور عیسائی بھی تھے جو بظاہر اس "امت وحیدہ" کا ایک حصہ نہیں بنے، لیکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے تذبذب کے عالم میں ‘‘میثاق مدینہ’’ پر دستخط کیا ہو ۔ جہاں تک ان گروپوں کا تعلق ہے، تو انہوں نے میثاق مدینہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یک طرفہ اعلامیہ کی حیثیت سے اپنے عمل کو جاری رکھا جیسا کہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے واضح ہے:
"اہل کتاب" کے ساتھ ناہموار تعلقات

5|41|اے رسول! وہ لوگ آپ کور نجیدہ خاطر نہ کریں جو کفر میں تیزی (سے پیش قدمی) کرتے ہیں ان میں (ایک) وہ (منافق) ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور ان میں (دوسرے) یہودی ہیں، (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے (آپ کو)خوب سنتے ہیں (یہ حقیقت میں) دوسرے لوگوں کے لئے (جاسوسی کی خاطر) سننے والے ہیں جو (ابھی تک) آپ کے پاس نہیں آئے، (یہ وہ لوگ ہیں) جو (اﷲ کے) کلمات کوان کے مواقع (مقرر ہونے) کے بعد (بھی) بدل دیتے ہیں (اور) کہتے ہیں: اگر تمہیں یہ (حکم جو ان کی پسند کا ہو) دیا جائے تو اسے اختیار کرلو اور اگر تمہیں یہ (حکم) نہ دیا جائے تو(اس سے) احتراز کرو، اور اﷲ جس شخص کی گمراہی کا ارادہ فرمالے تو تم اس کے لئے اﷲ (کے حکم کو روکنے) کا ہرگز کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کااﷲ نے ارادہ (ہی) نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں (کفر کی) ذلّت ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے،
5|42|یہ لوگ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے ہیں (مزید یہ کہ) حرام مال خوب کھانے والے ہیں۔ سو اگر (یہ لوگ) آپ کے پاس (کوئی نزاعی معاملہ لے کر) آئیں تو آپ (کو اختیار ہے کہ) ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں یا ان سے گریز فرما لیں، اور اگر آپ ان سے گریز (بھی) فرمالیں تو (تب بھی) یہ آپ کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان (بھی) عدل سے (ہی) فیصلہ فرمائیں (یعنی ان کی دشمنی عادلانہ فیصلے میں رکاوٹ نہ بنے)، بیشک اﷲ عدل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے،
5|43|اور یہ لوگ آپ کو کیوں کر حاکم مان سکتے ہیں در آنحالیکہ ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں اللہ کا حکم (مذکور) ہے، پھر یہ اس کے بعد (بھی حق سے) رُوگردانی کرتے ہیں، اور وہ لوگ (بالکل) ایمان لانے والے نہیں ہیں،
5|44|بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں،
5|45|اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے عوض آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے عوض کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں (بھی) بدلہ ہے، تو جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (یعنی معاف) کر دے تو یہ اس (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہوگا، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیں،
5|46|اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے پیچھے ان (ہی) کے نقوشِ قدم پر عیسٰی ابن مریم (علیھما السلام) کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور (یہ انجیل بھی) اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی (تھی) اور (سراسر) ہدایت تھی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت تھی،
5|47|اور اہلِ انجیل کو (بھی) اس (حکم) کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیں،
5|48|اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے،
5|49|اور (اے حبیب! ہم نے یہ حکم کیا ہے کہ) آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں،
5|50|کیا یہ لوگ (زمانۂ) جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں، اور یقین رکھنے والی قوم کے لئے حکم (دینے) میں اﷲ سے بہتر کون ہو سکتا ہے،
5|51|اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،
5|52|سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصارٰی) میں (شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش (نہ) آجائے (یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے)، تو بعید نہیں کہ اﷲ (واقعۃً مسلمانوں کی) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر (فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے) تو یہ لوگ اس (منافقانہ سوچ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے،
5|53|اور (اس وقت) ایمان والے یہ کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے تاکیدی حلف (کی صورت) میں اﷲ کی قَسمیں کھائی تھیں کہ بیشک وہ ضرور تمہارے (ہی) ساتھ ہیں، (مگر) ان کے سارے اعمال اکارت گئے، سو وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے،
5|54|اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے اﷲ کی راہ میں (خوب) جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ (انقلابی کردار) اللہ کافضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اﷲ وسعت والا (ہے) خوب جاننے والا ہے،
5|55|بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں،
5|56|اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کو دوست بنائے گا تو (وہی اﷲ کی جماعت ہے اور) اللہ کی جماعت (کے لوگ) ہی غالب ہونے والے ہیں،
5|57|اے ایمان والو! ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، ان کو جو تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنائے ہوئے ہیں اور کافروں کو دوست مت بناؤ، اور اﷲ سے ڈرتے رہو بشرطیکہ تم (واقعی) صاحبِ ایمان ہو،
5|58|اور جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو بصورتِ اذان) پکارتے ہو تو یہ (لوگ) اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے،
5|59|اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری کون سی بات بری لگی ہے بجز اس کے کہ ہم اﷲ پر اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور ان (کتابوں) پر جو پہلے نازل کی جا چکی ہیں ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ نافرمان ہیں،
5|60|فرما دیجئے: کیا میں تمہیں اس شخص سے آگاہ کروں جو سزا کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک اس سے (بھی) برا ہے (جسے تم برا سمجھتے ہو، اور یہ وہ شخص ہی) جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس پر غضب ناک ہوا ہے اور اس نے ان (برے لوگوں) میں سے (بعض کو) بندر اور (بعض کو) سؤر بنا دیا ہے، اور (یہ ایسا شخص ہے) جس نے شیطان کی (اطاعت و) پرستش کی ہے، یہی لوگ ٹھکانے کے اعتبار سے بدترین اور سیدھی راہ سے بہت ہی بھٹکے ہوئے ہیں،
5|61|اور جب وہ(منافق) تمہارے پاس آتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ (تمہاری مجلس میں) کفر کے ساتھ ہی داخل ہوئے اور اسی (کفر) کے ساتھ ہی نکل گئے، اور اﷲ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جنہیں وہ چھپائے پھرتے ہیں،
5|62|اور آپ ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھیں گے جو گناہ اور ظلم اور اپنی حرام خوری میں بڑی تیزی سے کوشاں ہوتے ہیں۔ بیشک وہ جو کچھ کررہے ہیں بہت برا ہے،
5|63|انہیں (روحانی) درویش اور (دینی) علماء ان کے قولِ گناہ اور اکلِ حرام سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بیشک وہ (بھی برائی کے خلاف آواز بلند نہ کر کے) جو کچھ تیار کر رہے ہیں بہت برا ہے،
5|64|اور یہود کہتے ہیں کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (یعنی معاذ اﷲ وہ بخیل ہے)، ان کے (اپنے) ہاتھ باندھے جائیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی، بلکہ (حق یہ ہے کہ) اس کے دونوں ہاتھ (جود و سخا کے لئے) کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ (یعنی بندوں پر عطائیں) فرماتا ہے، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے ربّ کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سر کشی اور کفر میں اور بڑھا دے گی، اور ہم نے ان کے درمیان روزِ قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، جب بھی یہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اﷲ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ (روئے) زمین میں فساد انگیزی کرتے رہتے ہیں، اور اﷲ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،
5|65|اور اگر اہلِ کتاب (حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کر لیتے تو ہم ان (کے دامن) سے ان کے سارے گناہ مٹا دیتے اور انہیں یقیناً نعمت والی جنتوں میں داخل کردیتے،
5|66|اور اگر وہ لوگ تورات اور انجیل اور جو کچھ (مزید) ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا تھا (نافذ اور) قائم کردیتے تو (انہیں مالی وسائل کی اس قدر وسعت عطا ہوجاتی کہ) وہ اپنے اوپر سے (بھی) اور اپنے پاؤں کے نیچے سے (بھی) کھاتے (مگر رزق ختم نہ ہوتا)۔ ان میں سے ایک گروہ میانہ رَو (یعنی اعتدال پسند ہے)، اور ان میں سے اکثر لوگ جو کچھ کررہے ہیں نہایت ہی برا ہے،
5|67|اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجئے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اﷲ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اﷲ کافروں کو راہِ ہدایت نہیں دکھاتا،
5|68|فرما دیجئے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سرکشی اور کفر میں بڑھا دے گی، سو آپ گروہِ کفار (کی حالت) پر افسوس نہ کیا کریں،
 5|69|بیشک (خود کو) مسلمان (کہنے والے) اور یہودی اور صابی (یعنی ستارہ پرست) اور نصرانی جو بھی (سچے دل سے تعلیماتِ محمدی کے مطابق) اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے،
5|70|بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد (بھی) لیا اور ہم نے ان کی طرف (بہت سے) پیغمبر (بھی) بھیجے، (مگر) جب بھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جسے ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو انہوں نے (انبیاء کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک کو (مسلسل) قتل کرتے رہے،
5|71|اور وہ (ساتھ) یہ خیال کرتے رہے کہ (انبیاء کے قتل و تکذیب سے) کوئی عذاب نہیں آئے گا، سو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ پھر اﷲ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، پھر ان میں سے اکثر لوگ (دوبارہ) اندھے اور بہرے (یعنی حق دیکھنے اور سننے سے قاصر) ہوگئے، اور اﷲ ان کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے جو وہ کر رہے ہیں،
اہل کتاب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت
"اہل کتاب" کے ساتھ تعلقات واضح طور پر قبائلی خطوط پر ہی تھے جس کی صراحت اس امر سے ہوتی ہے کہ پورا قبیلہ ٹکڑوں میں اپنے ارکان کا دفاع کرتا تھا جس کا نتیجہ پورے قبیلے کو اس کے لیے سزا دئے جانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔
ایسے قبائل کی مثال بنو قینوقہ، بنو نضیر اور بنو قریضہ ہیں، جنہیں "میثاق" کی سنگین خلاف ورزی کے لیے سزا دی گئی۔
ایک یہودی قبیلہ بنو نضیر کے خلاف یہ الزامات تھے:
1۔ انہوں نے کفار قریش کو بدر میں ان کے نقصان کے بعد احد میں جنگ کا بدلہ لینے کے لئے بھڑکایا
2۔ انہوں نے مذاکرات کی دعوت دیکر ایک حادثے کے انداز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خوش قسمت تھے کہ ان کی اس سازش سے بال بال بچ گئے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کا محاصرہ کیا۔ آپ نے انہیں ان کی املاک سے دست بردار ہونے اور دس دنوں کے اندر مدینہ چھوڑ کرنے بھاگ جانے کا حکم دیا۔ پہلے تو قبیلے نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے کا فیصلہ کیا، لیکن کچھ لوگوں نے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے نہ تھے، بنو نضیر کو ایک پیغام بھیجا کہ رک جاؤ اور اپنا دفاع کرو ہم تمہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنے دیں گے، اگر تمہارے اوپر حملہ کیا جاتا ہے تو ہم تمہارےساتھ مل کر جنگ کریں گے گا اور اگر تمہیں مدینہ سے نکالا جاتا ہے تو ہم بھی تمہارےساتھ جائیں گے۔''
قرآن کی جن آیات میں اس واقعہ کا حوالہ موجود ہے وہ حسب ذیل ہیں:
59|1|جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے،
59|2|وہی ہے جس نے اُن کافر کتابیوں کو (یعنی بنو نضیر کو) پہلی جلاوطنی میں گھروں سے (جمع کر کے مدینہ سے شام کی طرف) نکال دیا۔ تمہیں یہ گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور انہیں یہ گمان تھا کہ اُن کے مضبوط قلعے انہیں اللہ (کی گرفت) سے بچا لیں گے پھر اللہ (کے عذاب) نے اُن کو وہاں سے آلیا جہاں سے وہ گمان (بھی) نہ کرسکتے تھے اور اس (اللہ) نے اُن کے دلوں میں رعب و دبدبہ ڈال دیا وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور اہلِ ایمان کے ہاتھوں ویران کر رہے تھے۔ پس اے دیدۂ بینا والو! (اس سے) عبرت حاصل کرو،
59|3|اور اگر اللہ نے اُن کے حق میں جلا وطنی لکھ نہ دی ہوتی تو وہ انہیں دنیا میں (اور سخت) عذاب دیتا، اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) دوزخ کا عذاب ہے،
59|4|یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شدید عداوت کی (ان کا سرغنہ کعب بن اشرف بدنام گستاخِ رسول تھا)، اور جو شخص اللہ (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت کرتا ہے تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے،
مسلمانوں کے درمیان موجود منافقین کا ذکر
59|11|کیا آپ نے منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے اُن بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہلِ کتاب میں سے کافر ہوگئے ہیں کہ اگر تم (یہاں سے) نکالے گئے توہم بھی ضرور تمہارے ساتھ ہی نکل چلیں گے اور ہم تمہارے معاملے میں کبھی بھی کسی ایک کی بھی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور بالضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں،
59|12|اگر وہ (کفّارِ یہود مدینہ سے) نکال دیئے گئے تو یہ (منافقین) اُن کے ساتھ (کبھی) نہیں نکلیں گے، اور اگر اُن سے جنگ کی گئی تو یہ اُن کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر انہوں نے اُن کی مدد کی (بھی) تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر اُن کی مدد (کہیں سے) نہ ہوسکے گی،
59|13|اے مسلمانو!) بیشک اُن کے دلوں میں اللہ سے (بھی) زیادہ تمہارا رعب اور خوف ہے، یہ اس وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ ہی نہیں رکھتے،
59|14|وہ (مدینہ کے یہود اور منافقین) سب مل کر (بھی) تم سے جنگ نہ کرسکیں گے سوائے قلعہ بند شہروں میں یا دیواروں کی آڑ میں، اُن کی لڑائی اُن کے آپس میں (ہی) سخت ہے، تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ اُن کے دل باہم متفرّق ہیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے،
59|15|اُن کا حال) اُن لوگوں جیسا ہے جو اُن سے پہلے زمانۂ قریب میں ہی اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ چکے ہیں (یعنی بدر میں مشرکینِ مکہ، اور یہود میں سے بنو نضیر، بنو قینقاع و بنو قریظہ وغیرہ)، اور ان کے لئے (آخرت میں بھی) دردناک عذاب ہے،
59|16|منافقوں کی مثال) شیطان جیسی ہے جب وہ انسان سے کہتا ہے کہ تُو کافر ہو جا، پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو (شیطان) کہتا ہے: میں تجھ سے بیزار ہوں، بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے،
59|17|پھر ان دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے ہمیشہ اسی میں رہیں گے، اور ظالموں کی یہی سزا ہے،
بنو نضیر نے مدینہ سے اپنے اخراج کے بعد جنگ خندق میں دشمنون کا ساتھ دیکر مسلمانوں کے ساتھ اپنی جنگ کو جاری رکھا اور وہ خیبر کی جنگ میں بھی میں بھی مسلمانوں کے خلاف لڑے۔
آیت 59:15 میں بنو قینوقہ قبیلے کا ذکر ہے جسے پہلے ہی متعدد واقعات اور کھلے عام پیغمبر اسلام کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے بعد مدینے سے نکال دیا گیا تھا ۔
 بنو قریضہ
627ء میں جب قریش اور ان کے اتحادیوں نے جنگ خندق میں مدینے کا محاصرہ کیا تو قبیلہ بنو قریضہ نے محاصرہ کنندگان کے ساتھ مصالحت کر لی۔ اس کے بعد اس قبیلہ پر غداری کا الزام عائد کیا گیا اور مسلمانوں نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ بالآخر بنو قریضہ نے ہتھیار ڈال دیے اور اسلام قبول کرنے والوں کے علاوہ تمام مردوں کا سر قلم کر دیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔
قرآن مجید کی جن آیات میں اس واقعہ کا ذکر ہے وہ حسب ذیل ہیں:
(33:26) اور (بنو قُرَیظہ کے) جن اہلِ کتاب نے ان (کافروں) کی مدد کی تھی اﷲ نے انہیں (بھی) ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں (اسلام کا) رعب ڈال دیا، تم (ان میں سے) ایک گروہ کو (ان کے جنگی جرائم کی پاداش میں) قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو جنگی قیدی بناتے ہو۔
(27) اور اس نے تمہیں ان (جنگی دشمنوں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اوراس (مفتوحہ) زمین کا جِس میں تم نے (پہلے) قدم بھی نہ رکھا تھا مالک بنا دیا، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔
مختصر یہ کہ یہودی اور عیسائی کبھی بھی "امت وحیدہ" کا حصہ نہیں بنے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس وقت مدینے کے مشترکہ دفاع میں حصہ نہیں لیا جب مدینہ کو مکہ کی فوج نے اپنے حصار میں لے لیا تھا، بلکہ ان میں سے کچھ لوگوں نے دشمنوں کی کھلے عام اور خفیہ طور پر حمایت بھی کی۔
نبوی مشن کے اختتام پر ایک آخری فیصلہ:
سورہ توبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوموجودہ مخاطبین یا حجاز کے لوگوں کے تعلق سے حتمی فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ مشرکین کے لیے کیا تھا اس پر میں نے اپنے درج ذیل مضمون میں گفتگو کی ہے:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تاریخ (حصہ 4): مدنی دور
ان "اہل کتاب" کے لئے جنہوں نے کھل کر مسلمانوں سے جنگ نہیں کی لیکن وہ میثاق مدینہ کے تحت "امت وحیدہ" کا حصہ بھی نہیں بنے قرآن کا فیصلہ یہ ہے:
(9:29) اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں۔
مندرجہ ذیل آیات میں مزید ان کے رویے کی وضاحت کی گئی ہے:
5|77|فرما دیجئیے: اے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں ناحق حد سے تجاوز نہ کیا کرو اور نہ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کیا کرو جو (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) پہلے ہی گمراہ ہو چکے تھے اور بہت سے (اور) لوگوں کو (بھی) گمراہ کرگئے اور (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی) سیدھی راہ سے بھٹکے رہے،
5|78|بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا انہیں داؤد اور عیسٰی ابن مریم (علیھما السلام) کی زبان پر (سے) لعنت کی جا چکی (ہے)۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کرتے تھے،
5|79|(اور اس لعنت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ) وہ جو برا کام کرتے تھے ایک دوسرے کو اس سے منع نہیں کرتے تھے۔ بیشک وہ کام برے تھے جنہیں وہ انجام دیتے تھے،
5|80|آپ ان میں سے اکثر لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ کیا ہی بری چیز ہے جو انہوں نے اپنے (حسابِ آخرت) کے لئے آگے بھیج رکھی ہے (اور وہ) یہ کہ اﷲ ان پر (سخت) ناراض ہوگیا، اور وہ لوگ ہمیشہ عذاب ہی میں (گرفتار) رہنے والے ہیں،
5|81|اور اگر وہ اللہ پر اور نبی (آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس (کتاب) پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے ایمان لے آتے تو ان (دشمنانِ اسلام) کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
ان کے اندر "نیک نیتی" کے فقدان کی حتمی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے دوستی کی جو مسلمانوں کے دشمن تھے اور انہوں نے ان کی مدد کی تھی، جبکہ انہوں نے کم از کم غیر جانبدار رہنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا۔ انہوں نے خود اپنی کتابوں کے مطابق خدا سے جن باتوں کا اقرار کیا تھاوہ حسب ذیل ہیں:
(3:81) اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ (82) پھر جس نے اس (اقرار) کے بعد روگردانی کی پس وہی لوگ نافرمان ہوں گے۔
آیت 9:29 میں اہل کتاب پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے کی بات چھوڑ دیں وہ تو آپ پر ایمان بھی نہیں لائے تھے۔
آیت 9:29 میں خدا، رسول اور کتاب پر اہل کتاب کے ایمان کی نفی نہیں کی گئی ہے؛ بلکہ اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسے عقیدے پر عمل نہیں کرتے اس لیے کہ وہ سرکش ظالم اور نافرمان ہیں۔
(6:42) اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر ہم نے ان کو (نافرمانی کے باعث) تنگ دستی اور تکلیف کے ذریعے پکڑ لیا تاکہ وہ (عجز و نیاز کے ساتھ) گِڑگڑائیں۔
یہ ان کی باغیانہ فطرت تھی جسے ختم کیاجانا اور اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی اتھارٹی یا ایک نئے سیاسی وجود کی محکومی میں ان پر جزیہ کی ادائیگی کو ضروری قرار دیکر انہیں خدا کے احکامات کی کا تابعدار بنانا ضروری تھا۔ اگر وہ "میثاق مدینہ" کے تحت "امت وحیدہ" کا حصہ بن گئے ہوتے اور خود اپنی کتابوں میں موجود اللہ کے ساتھ اپنے عہد و پیمان کے مطابق ایمانداری کے ساتھ اپنا کردار پیش کرتے تو ان کا عمل مومنوں کے عمل کی طرح ہوتا ، اور انہیں راستے پر لانے یا انہیں عاجزی کا درس دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور مقررہ شرح کے بجائے ان پر قرآن کے مطابق رضاکارانہ طور پر صرف زکوٰۃ کی ادائیگی ضروری ہوتی۔
(2: 219) ......... اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں: جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)، اسی طرح اﷲ تمہارے لئے (اپنے) احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
(6:141) اور وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت) پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے کے دن اس کا (اﷲ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
جزیہ کے قیود شرائط اور تفصیلات
قرآن مجید میں کئی آیات ایسی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے احکامات وارد ہوئے ہیں جن کے دائرے میں رہ کر آپ کسی مسئلہ میں گفت و شنید کرنے، حذف و اضافہ کرنے اور تفصیلات پیش کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ آیت 9:29 ان میں سے ایک ہے۔تاریخ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ کا اجراء آیت 9:29 کے مطابق نہیں بلکہ یکسر مختلف طریقے سے کیا تھا۔ ایسی کوئی شہادت دستیاب نہیں ہے جس سے یہ معلو م ہو کہ کیا ہوا تھا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ "اہل کتاب" اس دور میں نیک نیتی کے فقدان اور برے رویے کے جرم میں تادیبی ٹیکس یعنی جزیہ سے بچنے کے لئے فکر مند تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور مسلمانوں کے اصل دشمنوں کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ لہٰذا انہوں نے "نیک نیتی" کے فقدان کے لئے تادیبی ٹیکس کی بدنامی کا داغ دور کرنے کے لیے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفت و شنید کی اور کامیاب ہوئے۔ لہٰذا جزیہ کی حتمی شکل دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے ایک تصفیہ کے بعد پیش کی گئی ، جس میں دونوں جماعتیں فاتحین تھیں اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے والی تھیں۔
جزیہ صرف ان مردوں پر عائد تھا جو فوجی خدمات انجام دینے کے قابل تھے اور اس کے بدلے میں انہیں فوجی خدمات سے بری کر دیا گیا تھا۔ اس کے بدلے میں ریاست نے اس برادری سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں کو "مامون" یا ذمی کا مرتبہ عطا کیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا دفاع اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست نے لے لی ہے۔ اور انہیں کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل تھی۔
لہذا، جزیہ کا نفاذ کبھی بھی یکطرفہ طور پر نہیں کیا گیا تھا، اور نہ ہی یہ کوئی تادیبی ٹیکس تھا بلکہ یہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے ایک تصفیہ کا نتیجہ تھا۔ اس میں اہل کتاب کی بھی جیت ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی جیت ہوئی اس لیے کہ آپ نے ان کے ساتھ بہ رضا ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کا تعلق قائم کر لیا تھا۔
آیت 9:29 کا اطلاق بھی واضح طور پر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موجودہ مخاطبین یا حجاز کے اہل کتاب پر ہوتا ہے۔ آیت 9:29 اور قرآن کی باقی تمام آیات میں انہیں کے طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ان "اہل کتاب" سے لڑنے کا حکم نہیں ہے جو رسول کے فوری مخاطبین نہیں تھے، جیسا کہ آیت9:5 میں صرف ان مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہیں۔ لہٰذا آیت 9:29 کا جزیرہ عرب سے باہر کے ان لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فوری مخاطب نہیں تھے ہیں۔ تاہم، چونکہ جزیہ ان لوگوں کے لیے ایک سیکولر اور غیر تادیبی امر ہو گیا جن کا ذکر آیت 9:29میں ہے، یہ عمل بعد کی تمام مفتوح قوموں کے لیے جاری ہو گیا۔ لہٰذا، یہ بڑے فرق کے ساتھ تمام فاتحین کی جانب سے عائد کردہ اس ٹیکس کی طرح تھا جس کی وجہ سے مفتوح اقوام کو ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی کی ضمانت دی جاتی تھی، اور ان کے مردوں کو فوج میں بھرتی ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا تھااور ان کے تحفظ کی ضمانت دی جاتی تھی۔ جزیہ سیکولر تھا، اس لیے کہ اسے صرف ان مردوں پر عائد کیا گیا تھا جو فوجی خدمات انجام دینے کے قابل تھے اور اس کے بدلے میں انہیں فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، اور عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور یہاں تک کہ راہبوں کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اگر اس کی بنیاد مذہب پر ہوتی تو خواتین، بوڑھے مردوں اور راہبوں کو اس سے مستثنیٰ نہیں کیا جاتا۔ یہ غیر تادیبی تھا، اس لیے کہ اس میں واضح طور پر فوجی خدمات سے آزادی، تحفظ کی ضمانت اور اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی ضمانت کی شکل میں پیسے کے لئے اہمیت اور قدر کو پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ، معمول یہ تھا کہ تمام فاتحین اپنے مفتوح شہریوں پر ٹیکس عائد کرتے تھے اور کوئی بھی فاتح اس کے بدلے میں کسی بھی بات کی ضمانت نہیں دیتا تھا۔
جزیہ کے عمل کو انہیں مقامات پر مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے جہاں صدیوں تک امن و امان کے بعد بھی یہ عمل جاری ہے، جہاں ریاستوں کی جانب سے زمین، پیداوار اور تجارت پر دیگر ٹیکس کو متعارف کرا دیے جانے کے بعد ختم کر دیا جانا چاہیے تھا۔ اس حقیقت کی بنیاد پر جزیہ کو کو ئی مذہبی تقدس حاصل نہیں ہے اس لیے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نفاذ اس انداز میں نہیں کیا جس طرح اس کا ذکر آیت 9:29 میں ہے۔ آیت 9:29 کی حیثیت صرف یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خطے کے اہل کتاب کو تابعدار بنانےاور حکومت کی خدمات کے لئے ٹیکس ادا کرنے پر انہیں متفق کرنے کا ایک سازگار طریقہ کار ثابت ہوئی، جس خطے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیاسی رہنما تھے۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے حصول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک سیاسی رہنما کے طور پر ناکام تھے۔

ISIS Heritage Destruction In Syria Is A War Crime: The UN Must Consider R2P To Stop It Now: New Age Islam’s Selection from World Press, 29 August 2015 New Age Islam Edit Bureau

ISIS Heritage Destruction In Syria Is A War Crime: The UN Must Consider R2P To Stop It Now: New Age Islam’s Selection from World Press, 29 August 2015 New Age Islam Edit Bureau
 
By New Age Islam Edit Bureau
29 August 2015
Islamic State Pretence And The Upcoming Wars In Libya
By Ramzy Baroud
ISIS Heritage Destruction In Syria Is A War Crime: The UN Must Consider R2P To Stop It Now
By Franklin Lamb
RAB And Extra-Judicial Killings in Bangladesh
By Taj Hashmi
Protests in Lebanon reflect the disease not the cure
By John Bell
Child Marriage Law and freedom of choice
By M Niaz Asadullah and Zaki Wahhaj

------
Islamic State Pretence And The Upcoming Wars In Libya
By Ramzy Baroud
27 August, 2015
Countercurrents.org
Another war is in the making in Libya: the questions are ‘how’ and ‘when’? While the prospect of another military showdown is unlikely to deliver Libya from its current security upheaval and political conflict, it is likely to change the very nature of conflict in that rich, but divided, Arab country.
An important pre-requisite to war is to locate an enemy or, if needed, invent one. The so-called ‘Islamic State’ (IS), although hardly an important component in the country's divisive politics, is likely to be that antagonist.
Libya is currently split, politically, between two governments, and, geographically, among many armies, militias, tribes and mercenaries. It is a failed state par excellence, although such a designation does not do justice to the complexity of the Libyan case, together with the root causes of that failure.
Now that ‘IS’ has practically taken over the city of Sirte, once a stronghold for former Libyan leader, Muammar Gaddafi, and the bastion of al-Qadhadhfa tribe, the scene is becoming murkier than ever before. Conventional wisdom has it that the advent of the opportunistic, bloodthirsty group is a natural event considering the security vacuum resulting from political and military disputes. But there is more to the story.
Several major events led to the current stalemate and utter chaos in Libya. One was the military intervention by NATO, which was promoted, then, as a way to support Libyans in their uprising against long-time leader, Gaddafi. NATO's intentional misreading of UN resolution 1973, resulted in ‘Operation Unified Protector’, which overthrew Gaddafi, killed thousands and entrusted the country into the hands of numerous militias that were, at the time, referred to collectively as the 'rebels'.
The urgency which NATO assigned to its war – the aim of which was, supposedly, to prevent a possible 'genocide' – kept many in the media either supportive or quiet. Few dared to speak out:
“While NATO's UN mandate was to protect civilians, the alliance, in practice, turned that mission on its head. Throwing its weight behind one side in a civil war to oust Gaddafi's regime, it became the air force for the rebel militias on the ground,” wrote Seumas Milne in the Guardian in May 2012.
“So while the death toll was perhaps between 1,000 and 2,000 when NATO intervened in March, by October it was estimated by the NTC (National Transitional Council) to be 30,000 – including thousands of civilians.”
Another important event was the elections. Libyans voted in 2014, yielding a bizarre political reality where two ‘governments’ claim to be the legitimate representatives of the Libyan people: one in Tobruk and Beida, and the other in Tripoli. Each ‘government’ has its own military arms, tribal alliances and regional benefactors. Moreover, each is eager to claim a larger share of the country's massive oil wealth and access to ports, thus running its own economy.
The most that these governments managed to achieve, however, is a political and military stalemate, interrupted by major or minor battles and an occasional massacre. That is, until ‘IS’ appeared on the scene.
The sudden advent of ‘IS’ was convenient. At first, the ‘IS’ threat appeared as an exaggerated claim by Libya's Arab neighbours to justify their own military intervention. Then, it was verified by video evidence showing visually-manipulated ‘IS’ 'giants' slitting the throats of poor Egyptian labourers at some mysterious beach. Then, with little happening in between, ‘IS’ fighters began taking over entire towns, prompting calls by Libyan leaders for military intervention.
But the takeover of Sirte by ‘IS’ cannot be easily explained in so casual a way as a militant group seeking inroads in a politically divided country. That sudden takeover happened within a specific political context that can explain the rise of ‘IS’ more convincingly.
In May, Libya Dawn's 166th Brigade (affiliated with groups that currently control Tripoli) withdrew from Sirte without much explanation.
“A mystery continues to surround the sudden withdrawal of the brigade,” wrote Kamel Abdallah in al-Ahram Weekly. “Officials have yet to offer an account, in spite of the fact that this action helped ‘IS’ forces secure an unrivalled grip on the city.”
While Salafi fighters, along with armed members of the al-Qadhadhfa tribe, moved to halt the advances of ‘IS’ (with terrible massacres reported, but not yet verified) both Libyan governments are yet to make any palpable move against ‘IS’. Not even the insistent war-enthusiastic, anti-Islamist General Khalifa Heftar, and his so-called “Libyan National Army” made much of an effort to fight ‘IS’, which is also expanding in other parts of Libya.
Instead, as ‘IS’ moves forward and consolidates its grip on Sirte and elsewhere, the Tobruk-based Prime Minister Abdullah Al-Thinni urged “sister Arab nations” to come to Libya's aid and carry out air strikes on Sirte. He has also urged Arab countries to lobby the UN to end its weapons embargo on Libya, which is already saturated with arms that are often delivered illegally from various regional Arab sources.
The Tripoli government is also urging action against ‘IS’, but both governments, which failed to achieve a political roadmap for unity, still refuse to work together.
The call for Arab intervention in Libya's state of security bedlam is politically-motivated, of course, for Al-Thinni is hoping that the air strikes would empower his forces to widen their control over the country, in addition to strengthening his government's political position in any future UN-mediated agreement.
But another war is being plotted elsewhere, this time involving NATO's usual suspects. The Western scheming, however, is far more involved than Al-Thinni's political designs. The London Times reported on August 1st that “hundreds of British troops are being lined up to go to Libya as part of a major new international mission,” which will also include “military personnel from Italy, France, Spain, Germany and the United States … in an operation that looks set to be activated once the rival warring factions inside Libya agree to form a single government of national unity.”
Those involved in the operation which, according to a UK Government source, could be actualized “towards the end of August”, are countries with vested economic interests and are the same parties behind the war in Libya in 2011.
Commenting on the report, Jean Shaoul wrote, “Italy, the former colonial power in Libya, is expected to provide the largest contingent of ground troops. France has colonial and commercial ties with Libya’s neighbours, Tunisia, Mali and Algeria. Spain retains outposts in northern Morocco and the other major power involved, Germany, is once again seeking to gain access to Africa’s resources and markets.”
It is becoming clearer that Libya, once a sovereign and relatively wealthy nation, is becoming a mere playground for a massive geopolitical game and large economic interests and ambitions. Sadly, Libyans themselves are the very enablers behind the division of their own country, with Arab and Western powers scheming to ensure a larger share of Libya's economic wealth and strategic value.
The takeover of Sirte by ‘IS’ is reported as a watershed moment that is, once again, generating war frenzy – similar to that which preceded NATO's military intervention in 2011. Regardless of whether Arabs bomb Libya, or Western powers do so, the crisis in that country is likely to escalate, if not worsen, as history has amply shown.
Dr. Ramzy Baroud has been writing about the Middle East for over 20 years. He is an internationally-syndicated columnist, a media consultant, an author of several books and the founder of PalestineChronicle.com. His latest book is My Father Was a Freedom Fighter: Gaza’s Untold Story (Pluto Press, London). His website is: www.ramzybaroud.net.
countercurrents.org/baroud270815.htm
------
Isis Heritage Destruction In Syria Is A War Crime: The Un Must Consider R2p To Stop It Now
By Franklin Lamb
26 August, 2015
The Ancient Citadel, Damascus: This observer imagines that it’s probably not politically very correct among quite a few, including formerly this observer, to even mention the idea. But is it not the case dear reader that the continuing rampant and irreversible cultural terrorism ravaging Syria will not be halted by an anemic elusive “international political solution” anytime soon? Hence what is warranted for serious consideration at UN HQ and without further delay is a limited and tightly monitored UN-led intervention to end the destruction of our cultural heritage. Specifically by considering a quick short-leashed employment of Responsibility to Protect (R2P)?
“I am seeing Palmyra being destroyed right in front of my eyes. God help us in the days to come. Our darkest predictions are unfortunately taking place,” my friend, Dr. Abdul-Karim, the Director-General of Syria’s Antiquities and Museums (DGAM) recently explained, adding that he was somehow not totally surprised to learn that the Islamic State had destroyed the second century AD Temple of Baalshamin (shown before and after its destruction below)
The temple stood less than 100 yards from the Roman amphitheater where the Islamic State held a summary trial with unanimous verdict and mass execution, killing 25 Syrian army prisoners last spring. Baalshamin was built in AD 17 as a place of worship dedicated to the Phoenician god of storms and the sky, expanded under the reign of the emperor Hadrian in 130 AD and during the time of Queen Zenobia and her husband Septimius Odaenathus, the King of Kings of Palmyra, it evolved into a major worshiping site for a number of deities.
According to locals, and to the surprise of some, Daesh (ISIS) loyalist religious purists have since last May been observed using the pagan temple Baalshamin to pray at Fajr (morning) prayers including the day they murdered archaeologist Khaled al-Ass’ad earlier this month. But even their own place of worship needed to be blow-up on orders of a ranking local IS sheik. And so it was.
Irina Bokova, the chief of the UN’s cultural agency, UNESCO, issued an urgent appeal on 8/24/2015: “This destruction is a war crime under Section 8 of the Rome Statute of the International Criminal Court crime and an immense loss for the Syrian people and for humanity. Daesh (Isis) is killing people and destroying sites, but cannot silence history and will ultimately fail to erase this great culture from the memory of the world.” Ms. Bokova added that the "perpetrators must be accountable for their actions."
The UNESCO Director is correct. The Daesh (ISIS) campaign against humanities cultural heritage isn’t just a violation of international law, but a genocidal assault on the core of our civilization. There are ample legal and historical precedents for judging Daesh’s (ISIS) antiquities destruction a war crime as well as a crime against humanity. “This tragedy is far from just a cultural issue: it’s an issue of major security,” she said “We see clearly how terrorists use the destruction of heritage in their strategy to destabilize and manipulate populations so that they can assure their own domination.” Daesh’s warped implementation of Sharia law and its destruction of cultural artifacts in Syria and elsewhere suggest an organization very similar to past and present totalitarian states which subjugate their citizens while stripping them of all cultural and social individuality. Daesh mimics the genocidal organizations, such as the Mongols, Nazism, Pol Pot and many others that preceded its arrival. Its cultural carnage clearly falls under the legal definition of a war crime and it is the submission of this observer that Director Bokova’s protestations have the force of UN doctrine behind them.
As of today, much of Palmyra is still well preserved and could be saved if we act now. But what’s next on the agenda of the religious purists currently rampaging, so far with impunity, in Palmyra? It’s anyone’s guess. Will it be the temple of Bel, the former center of religious life in Palmyra with its still preserved ancient cella, the inner sanctum dedicated to the sun god? Or will Daesh next destroy the Arc of Triumph on Palmyra’s ancient colonnades, or perhaps the second century AD Roman amphitheater which is currently being used as a trial and execution theater?
Daesh apologists have repeatedly advised this observer that theirs is a carefully thought-out, quite legitimate religion based ideology that they claim includes cultural and religious purity. Some freely admit that in order to control and convert nonbelievers, their swelling ranks of religious purists plan to control culture, the essential context on which civil society is built. This, they insist is absolutely required in order to achieve domination. And if necessary, the death cult claims it is ready to pursue complete annihilation, as they allegedly increase their use of mustard gas and seek WMD’s, in partial preparation for entering some sort of a presumed afterlife.
There are ample recent international legal developments that point toward urgent R2P UN-led action to stop this cultural genocide that horrifies most of us.
International jurists generally agree that to employ R2P against those destroying archaeological sites in Syrian along with our identity as a specie, there must be serious and irreparable harm occurring or imminently likely to occur. Moreover, that the main intention of the R2P action must be to prevent irreversible cultural cleansing, that there are reasonable grounds to believe that only military action would work in this particular case, that the R2P means employed must not exceed what is necessary to secure the defined cultural protection objective, the chance of success must be reasonably high, and it must be unlikely that the consequences of the R2P intervention would be worse than the consequences without the intervention. Lastly, the R2P military action to protect and preserve our global cultural heritage has to be authorized by the UN Security Council.
Caution is warranted in considering using R2P. One only needs to revisit the R2P fiasco unleashed during the summer of 2011 in Libya, where this observer spent many weeks witnessing the ‘civilian protection no fly-zone’ turn into a 14 weeks bombing frenzy killing countless civilians and creating what we see today in what is left of Libya, to appreciate the need to strictly adhere to the above enumerated legal and political strictures. India's UN Ambassador Hardeep Singh Puri has argued that "the Libyan case has already given R2P a bad name" and that "the only aspect of the R2P resolution of interest to the international community was using of all necessary means to bomb the hell out of Libya". Puri also alleged that civilians had been supplied with arms and that the no-fly zone had been implemented only selectively.
Despite its misuse in Libya and admitted checkered past, Responsibility to Protect (R2P) is perhaps the most important and imaginative doctrine to emerge on the international scene since the UN Charter and is one of the most promising international legal innovations available to us. It should not be ignored in our reactions to the war being waged to destroy our shared global culture.
Other relevant factors to be considered as the UN Security |Council meets on this subject of Syria, hopefully this week, include the Rome Statute of the International Criminal Court and in particular to Article 8(2)(b)(ix), which falls under the category of war crimes. Article 8 recognizes the act of ‘intentionally directing attacks against buildings dedicated to religion, education, art, science or charitable purposes, historic monuments…as a war crime.”
This observer would argue that the Rome statute codifies the normative definition of crimes against civilized society, including “cultural genocide” and “crimes against humanity.” The inclusion of cultural objects in ICC’s doctrine on war crimes recognizes the apparent limitless nature of our specie’s most depraved predilections to commit unrestrained evil.
Also applicable is the 2/12/2015 UN Security Council adopted Resolution 2199 to respond to the threat posed by the Islamic State in Iraq and the Levant (ISIL), as well as the Al Nusra Front (ANF) and other groups associated with Al-Qaida (AQ). Adopted under Chapter VII of the UN Charter, this resolution provides for a range of tools, including sanctions and other binding measures, to degrade these terrorist organizations' ability to carry out brutal attacks. It focuses extensively on terrorist financial support networks, particularly ISIL's raising of funds through oil smuggling, looting and selling of antiquities, kidnapping for ransom and other illicit activities. This resolution builds upon UN Security Council Resolution 2170 (2014), the Council's first major resolution on the ISIL threat that was adopted in August 2014. UNSCR 2170 condemns the destruction of cultural heritage in Iraq and Syria, including targeted destruction of religious sites and objects. It notes that ISIL, ANF and AQ-related groups are generating income from the direct or indirect trade in looting and smuggling of cultural heritage items and imposes a new ban on the illicit trade of antiquities from Syria.
Noteworthy is the Annual Report on Human Rights and Democracy in the World 2013 and the European Union’s policy on the matter paragraph 211 which states that ‘intentional forms of destruction of cultural and artistic heritage, as it is currently occurring in Syria, should be prosecuted as war crimes and as crimes against humanity.” The UN had adopted the Hague Convention of 1954 which requires signatories to protect “cultural property”—movable or immovable property of great importance to the cultural heritage of every people—from destruction and misappropriation even in times of armed conflict. But the Hague Convention has not been applied, must less enforced by most UN Member States.
This observer submits that while that R2P is not currently hardened international law in the sense of being a multinational treaty or enshrined in the UN Charter, law, it is based on respect for the principles that underlie international law, especially the underlying principles of law relating to sovereignty, peace and security, human rights, and armed conflict. It can be argued that given its wide acceptance among the 197 countries comprising the United Nations, that R2P has achieved the status of international customary law.
Responsibility to Protect (R2P) has its origins in the 1990’s failure to respond to tragedies such as the Rwandan Genocide in 1994 and the Srebrenica massacre in 1995. In 2000, Kofi Annan, in his capacity as UN Secretary-General, authored the report "We the Peoples" on the role of the United Nations in the 21st Century and he posed the following question: If humanitarian intervention is, indeed, an unacceptable assault on sovereignty, how should we respond to gross and systematic violations of human rights that offend every precept of our common humanity?
Time is quickly running out for all of us to answer Kofi Annan’s question and if we reply in the affirmative, to petition our governments and the UN to create a highly mobile, competent, short tethered wide international participation coalition force of fixed duration, perhaps subject to 90-day UN renewal, and to act on our shared international responsibility to preserve and protect Syria’s Endangered Heritage.
Employing R2P should be debated and carefully considered. There do not appear here in Syria to be many other options given the zeal of the jihadists who are hell bent on the imminent destruction of humanity’s shared culture heritage and identity.
If we act quickly, despite the obstacles and fanaticism, human creativity can prevail, buildings and sites are able to be rehabilitated, and many, but not all that that have been destroyed, can be rebuilt.
We have no alternative. Our shared cultural heritage teaches us about tolerance and respect for a diverse humanity. If we rescue our heritage it will help save us from the foibles of arrogance, intolerance, prejudice toward and persecution of our fellow human beings.
It reminds us of our better nature and like the standing bodhisattva, Buddhas to be, helps us all live in a more humane world.
Franklin P. Lamb, LLB, LLM, PhD, Legal Adviser, The Sabra-Shatila Scholarship Program, Shatila Camp (SSSP-lb.com). Volunteer with the Palestine Civil Rights Campaign (PCRC) Beirut and Washington, DC committed to help achieving the Right To Work and the Right to Home Ownership for every Palestinian Refugee in Lebanon.
countercurrents.org/lamb260815.htm
------
RAB And Extra-Judicial Killings in Bangladesh
By Taj Hashmi
26 August, 2015
Countercurrents.org
Of late, an influential ruling party MP has registered his contempt for the latest rounds of extra-judicial killings by the Rapid Action Battalion (RAB) in Bangladesh. It is evident from his statement that he is angry with the paramilitary outfit – which virtually turned into a death squad soon after its creation in 2004 – only because it has started killing ruling party “activists”. Yet one may congratulate the MP for speaking up against extra-judicial killings in the country. Better late than never! However, one wonders if the RAB this time acted on its own, or was under instruction from above!
Civilized human beings everywhere consider extra-judicial killing inhumane, barbaric, and a relic of the pre-modern past. No democracy can allow this barbarism in any name or excuses. Interestingly, while the police in Britain, Australia and New Zealand either carry no firearms, or when they carry, they keep them hidden from public view, one senior Bangladeshi police officer stated publicly early this year, “the Government has armed the police not to play kabaddi with them”, but to use them, he implied. This lack of respect for human life is an important factor behind all extra-judicial killings by law-enforcers in Bangladesh.
It is sad that law-enforcing agencies, which are maintained with taxpayers’ money, have been engaged in extra-judicial or illegal killing of civilians with impunity. It is even sadder that initially Bangladeshis across the board started congratulating the RAB for killing hardcore criminals – mainly killers, muggers and extortionists – in dubious “encounters” or “cross-fires”.
The saddest part of the story is that hardly anybody in Bangladesh who is influential enough to change and modify government policies, has come forward to stop this barbaric, pre-modern system of killing criminals, suspects, and of late, innocent people without giving the victims the due process of law. Unfortunately, most members of the civil society, judges and lawyers, religious leaders, lawmakers and politicians, professionals, traders, students and the hoi polloi in general have not come forward against these killings for the sake of upholding the sanctity of the rule of law, and independence of the judiciary.
Sadly, people across the board seem to have lost faith in the efficiency, honesty and integrity of law-enforcers and dispensers of justice in the country. This is simply ominous. The upshot is the least desirable mass acceptance of extra-judicial killings by RAB among every section of the population in the country. People only grumble when their own kith and kin or party members fall victims to RAB’s “cross-firing”, as the ruling party MP is doing today. It is noteworthy that the average Bangladeshi knows what the expression “cross-fire” implies. Nobody in Bangladesh seems to be convinced by the stories one reads in the newspaper about the so-called “cross-fire” incidents. Hence the use of inverted commas – as we see media doing so – before and after the expression!
It seems, while the people, media, and government agencies are busy playing a cynical hide-and-seek game with each other by tossing the stories of “cross-fire” in the air, the free world looks at Bangladesh with total dismay and disbelief. The UN, human rights organizations, governments and individuals in various countries are worried about the state of affairs in Bangladesh. While others worry about the violations of human rights in the country by law-enforcers, Bangladeshis seem to be blindly following the Machiavellian dictum: “End justifies means”. How long this expediency will sustain, is the question!
What even many highly educated people do not realize, the combination of strong and overpowering government machinery with weak, vulnerable and powerless people does not signify the strength of a country. This happens in autocratic regimes and in colonial setups. And Bangladeshis often forget that they achieved their independence in the name of overthrowing the overpowering influence of the military and law-enforcers, through democracy and the rule of law. While the creation of the Rapid Action Battalion (RAB) without strengthening democratic institutions and the judiciary in 2004 was an imprudent, shortsighted measure, empowering this law-enforcing agency to engage in extra-judicial killing is simply a gross violation of the Constitution. Unfortunately, the successive governments since 2007 have neither disbanded the RAB nor have they stopped extra-judicial killings.
Extra-judicial killing is normative in dictatorships and autocratic monarchies. Hitler had Gestapo and Schutzstaffel (SS) units, Mussolini had Blackshirts, Reza Shah II had Savak, and Saddam Hussein had Secret Police. Interestingly, the rationales for special guards and police forces have always been maintaining “law and order” and ensuring “crime free” societies. And eventually, the thin line between criminals and political dissidents disappears without being noticed by anybody.
This, however, does not mean that I am comparing the RAB with special guards and secret police of yester years. What I imply here is: there is an inherent danger in empowering any law-enforcing agency with extra-judicial power and authority to kill hardcore killers and criminals. Extraordinary extra-judicial power to kill criminals with impunity often backfires. As now we know, the RAB has killed many suspects and even innocent people in the name of “cross-fire”. Most importantly, there are examples of special forces turning into extortionists and criminal gangs themselves, in various countries.
Although some democratic countries around Bangladesh also condone extra-judicial killings by law-enforcers through so-called “encounters”, Bangladesh has no reason to consider them its role models. Since the “Spirit of Liberation” of Bangladesh was all about ensuring the freedom from fear, hunger, extortion, injustice and unaccountable governance, there is no room for any extra-judicial killing, military rule and one-party dictatorship in the country. Any extra-judicial killing irrespective of the victim’s race, religion, criminal background or political affiliation is an affront to the Constitution and the spirit of Bangladesh.
Since torture, death penalty and extra-judicial killing are not antidotes to violent crimes like murder and rape, extortion and sedition, there is no room for “end justifies means” type Machiavellian thoughts. Those having soft corner for extra-judicial killing must realise, the democratic world is fast abolishing death penalty as a mode of punishment for criminals. Human rights activists in general even consider death penalty as “judicial murder”. In sum, every life matters, and an extra-judicial killing is an extra-judicial killing, immoral, inhumane and unconstitutional.
Taj Hashmi teaches security studies at Austin Peay State University. Sage has recently published his latest book, Global Jihad and America: The Hundred-Year War Beyond Iraq and Afghanistan
countercurrents.org/hashmi260815.htm
------
Protests in Lebanon Reflect the Disease Not the Cure
By John Bell
27 Aug 2015
Another set of political demonstrations has taken off in the Arab world. This time it is in Lebanon, where a summer of rubbish in the streets has triggered street riots reminiscent of Tahrir Square. No one knows what all this portends, some hope and dream of a Lebanon "whole", others dismiss the events or gaze at a conspiracy.
The Lebanese demonstrations come against a backdrop of a country without a president, and with a transitional government barely holding things together. Cabinet decisions cannot be made because of internal disputes over procedures and priorities, including appointments favouring one side or another. All is interlinked in a warp of self-interest, the drive for power and greed trumps clean streets and decency. Welcome to the future.
Before the rubbish issue, there was (and is) an electricity shortage, and wild uncontrolled speeding on the highways, missiles of death disguised as cars. The most basic of state functions is victim to favour, patronage, or the whims of local thuggery.
Indeed, in Lebanon, the state barely exists, it is hollowed out, weakened by narrow agendas, non-state actors and a Lebanese propensity to side with whatever local or regional group serves short term interest - or pays.
Real political change
The response to the mess has been street demonstrations. What else can the citizen do in such a morass? Many of the organisers and protesters are decent, serious people who want real political change. However, after half a decade of such events in the Arab world and elsewhere, there is a question around the efficacy of "the street" as a method.
Also read: How Lebanon's rubbish spurred a budding revolution
In Greece, the demonstrations rose to a very high pitch - before the government folded rapidly in the face of fiscal realities and an economic abyss. In Egypt, they led to a change of government  - and the return of the military, the ultimate establishment power.
In Syria, peaceful demonstrations were outmuscled by the ruthless Bashar al-Assad, and hijacked by extremists. There is indeed the serious risk of "hijack", of other powers taking advantage and filling the temporary void of protests that shake the system.
Tunisia is the only country that has seen some political evolution and a relatively coherent process. Can precarious Lebanon do the same? Those organising the demonstrations today may have all the right ingredients, but they face a well-entrenched and corrupt elite with many supporters. The latter are an underestimated problem: They are regular citizens with reflexes that maintain the status quo.
The reality may be that street demonstrations are more reflective of the disease than the cure. People get fed up and they signal loudly that something is wrong. However, there is a large gap between demonstration and the reform of political systems. The system may need a shock, but sustained and sustainable reform is the real game.
Demanding that vested interests create necessary space is fine, but voting them out may be more effective.
As Maya Baydoun, a Lebanese journalist, said: "The day that Lebanese youth start ridding themselves of worshipping their leaders and warlords, and start electing representatives based on merit not religion, then and only then will Lebanon become a developed country. In the meantime, what's going on is shallow protest and definitely not a revolution!"
Political habits
The larger problem here is one of political habits, at the top and the bottom. Culture diffuses in every direction, down, as well as up. A citizen unused to choosing wisely can go in many strange directions (eg, Donald Trump). This is where the real battle for the decent demonstrators lies: in long term change, and in changing the habits that created the problem.
In Lebanon, the context breeds distrust, and a short term mind-set. I remember a Lebanese woman railing against her leaders and their corruption. Not a minute passed before she told me that she would accept money to vote for x, y, or z. "Why not take advantage when they are," was her logic. Her mind had two separate compartments: how others should behave/how she should behave. The corruption diffuses in every direction, up, down, in, out; she is not a solitary case.
In 2005, the anthropologist Jared Diamond wrote a book called "Collapse - How Societies Choose to Fail or Succeed." He explained how societies like the Khmer and the Mayan collapsed. He also mentions how Iceland and the southwest Pacific island of Tikopia were successful in meeting the challenges. Importantly, he indicates as keys to that success "long term planning and willingness to reconsider core values". Neither is happening in Lebanon.
What we may now be seeing is the collapse of Arab states under the combined brew of globalised economics, climate change, resource depletion, and corruption. There is a large mismatch between governance capacities and the challenges ahead. Today's problems may seem like nothing in the face of what's coming.
During my recent summer stay in Lebanon, road rage led to a car chase and a public murder in downtown Beirut. In another case, an army officer was killed point blank for no reason other than the untamed egos of young men. Rubbish piled up in the streets while the young and cool party on rooftops. Scenes from Blade Runner may no longer be as distant as they once seemed.
Stop favouritism and privilege
Lebanon may solve its rubbish crisis in the near future. It may even create a national dialogue to mitigate some of its problems. But, the desire to consume and survive, to forget, seems strong - the impulse for immediate gain may bury the future.
Is there a way out? The question is whether people are ready to pay the price for it, and forego something now for future gain. In Greece, despite the street noise, leaving the euro was not an option. So far, people prefer to pay the price of staying in, with the handcuffs that come with it.
In Lebanon, the price is to stop favouritism and privilege, get out of sectarianism, and out of the games of regional power. It's a decision to abide by the law, even when others don't. It's a tall order but it's the price of avoiding collapse, it's a "willingness to reconsider core values".
The option is there to change political culture, and pursue a sensible system where material and emotional needs of people are clearly met. But, it seems, leaders won't let the Lebanese do it - or they won't let themselves.
Old habits die hard, but the journey of a thousand miles begins with one step (maybe one step more than a street demonstration). If Iceland and Tikopia can do it, surely Lebanon can.
John Bell is director of the Middle East programme at the Toledo International Centre for Peace in Madrid. He is a former UN and Canadian diplomat and served as political adviser to the personal representative of the UN secretary-general for southern Lebanon and adviser to the Canadian government.
aljazeera.com/indepth/opinion/2015/08/protests-lebanon-reflect-disease-cure-150827063559106.html
------
Child Marriage Law and Freedom of Choice
By M Niaz Asadullah and Zaki Wahhaj
August 29, 2015
The government of Bangladesh is presently contemplating a move that would permit girls to marry at 16 with parental consent and/or approval from courts. If the law is passed, it would mark the first occasion that the legal age of marriage has been lowered in the Indian subcontinent since the "Child Marriage Restraint Act" came into effect in 1929.
Despite significant progress in improving gender equality and declining poverty in recent years, Bangladesh has one of the highest rates of child marriage among girls in the world: two-thirds of women marry before the age of 18. The current law forbidding the marriage of minors (below the age of 18 for girls and 21 for boys) is frequently
ignored and rarely enforced.
The Bangladesh government argues that denying parents the legal mandate to marry off their daughters can, paradoxically, lead to a higher incidence of child marriage and create further social problems. The logic rests on the idea that with an increasing number of adolescent girls attending secondary school in rural areas and working in the industrial sector, they are more likely to encounter situations where they may be taken advantage of by men, pressured into sexual relationships or persuaded to elope. In traditional society, marriage provides social protection to girls against these threats and, therefore, the reasoning goes, denying parents the legal right to marry off daughters before 18, not only undermines parental agency but also increases the vulnerability of adolescent girl s. A junior health minister remarked last year that the government's proposals to modify the existing child marriage laws were a response to an increased 'tendency to elope' among girls, and 'pressure from rural areas'.
The Bangladesh State minister for Women and Children's Affairs is convinced that a lower age limit, combined with a harsher punishment for breaking the law would be easier to enforce and, ultimately, be beneficial for women. The bill under consideration would increase the maximum penalty from two months to two years in jail. The financial penalty for forcing children into marriage will be increased and changing the bride's official age using a notary public will be prohibited.
This is not the first attempt by the Bangladesh government to amend child marriage laws. Last year a bill was introduced in the parliament to lower the legal minimum age of marriage for women from 18 to 16.
Following strong opposition from both local activists and international organisations -- including Human Rights Watch -- the government announced last October that the legal minimum age of marriage for girls will remain at 18.
The modified bill currently under consideration was also criticized by human rights activists in Bangladesh on the occasion of International Women's Day earlier this month.
These repeated attempts to amend the law suggest that Bangladeshi lawmakers are genuinely concerned about the social challenges caused by the practice of child marriage and the laws governing such marriage. At the July 2014 Girl Summit in London, the government of Bangladesh made a commitment to revise the “Child Marriage Restraint Act 1929” by 2015 and eradicate marriage by girls below the age of 15 by 2021, which places it under added pressure from the international community to act on this issue.
Yet, its approach to and reasoning around the issue seems confused and, may ultimately be counter-productive. It is doubtful that increasing parental agency would improve the security of adolescent girls and lower the incidence of child marriage. In 2014, we completed the “Women's Life Choices and Attitudes Survey” (WiLCAS) that interviewed over 6,000 women aged between 20 and 39 years living across 64 districts of Bangladesh and hence provides a unique perspective to the debate.
About 83% of the married women in our survey had their marriages arranged by their parents or other relatives; 38% were married by the age of 15, and 77% by the age of 18. In response to the question 'what was the most important reason for the marriage?', only 3% mentioned 'parental concern about my physical safety'. By contrast, 72% answered that their 'parents felt it was too good a proposal to refuse'.
Only 14% of women in WiLCAS sample met their husbands without arrangement by their parents. These women were less likely to marry by age 15 (32%) than those who had arranged marriages (39%); and less likely to say that they 'would have preferred to delay their marriage'
(32%) than women who had arranged marriages (40%).
If we focus on women from more impoverished backgrounds in our WiLCAS sample – specifically those whose fathers owned less than half an acre of land and were either day-labourers or artisans – the patterns are very similar: a similar proportion met their husbands without the arrangement of their parents; these women were less likely to marry young and less likely to say that they 'would have preferred to delay their marriage'.
These figures contrast sharply with the narrative of the Bangladesh government that parents tend to marry off their daughters early out of concerns for their safety. Rather, it suggests that women who make their own choice of partners – which access to education and employment opportunities makes possible by providing increased social contact -- are prone to marry later, and more satisfied with their timing of marriage.
In justifying the present bill, the government has pointed out that that legal minimum age of marriage in most developed countries is below 18 years. But it is important to recognise that in most of these societies, arranged marriages are not the norm and the age of marriage is not dictated by social custom. Therefore, children and parents have greater capacity to exercise their agency on the issue. At the same time, functional courts, transparent birth and marriage registration system, life skills training at school, a culture of dialogue at home and child rights protection agencies at the community level further provide checks and balances to ensure that the legal right to marry young is not abused. In this setting, the legal sanction of early marry does not infringe on the human rights of adolescents.
These pre-conditions and institutions do not exist in Bangladesh. The country is consistently ranked at the bottom in cross-country ranking in terms of rule of law index. Lack of governance has undermined the credibility of all institutions including those that are supposed to provide checks to the practice of child marriage.
Our figures and reasoning suggest a different approach to the issue. It is not lack of parental agency, but the lack of agency among adolescent girls themselves which is the main source of their
vulnerability. Increased agency among adolescent girls regarding marriage decisions is likely to translate into delayed marriage. Furthermore, it is an important goal in its right, consistent with Amartya Sen's view of 'development as freedom'.
Therefore, any changes in child marriage law should aim to improve the capacity of adolescent girls to exercise their own choice rather than circumvent it.
M Niaz Asadullah and Zaki Wahhaj are Professor of Development Economics & Deputy Director of the Centre for Poverty and Development Studies (CPDS) at the University of Malaya and Senior Lecturer in Economics at the University of Kent, respectively.
thedailystar.net/op-ed/politics/child-marriage-law-and-freedom-choice-134188