Pages

Showing posts with label ہندوستانیوں. Show all posts
Showing posts with label ہندوستانیوں. Show all posts

Monday, June 18, 2012

سانحۂ کربلا اور ہندوستان راج پتھ پر جلوس محرم, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
سانحۂ کربلا اور ہندوستان راج پتھ پر جلوس محرم

علی عابدی

شاید ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ایوان صدارت او رپارلیمنٹ کے پاس راج پتھ سے چہلم اور تعزیہ کا جلوس گزرسکتا ہے ایسی اجازت وطن عزیز میں کسی اور مذہبی جلو س کو حاصل نہیں ۔ فخر کی بات یہ ہے کہ یہ جلوس1947میں بھی نہیں رکا ۔ ہندوستان کی تہذیب میں غیروں کا درد بانٹنے کا جیسا دستور ہے ایسا دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں جو قربانی امام حسین نے چودہ سوسال پہلے کربلا میں پیش کی اس کی یاد جتنی ہندوستان میں منائی جاتی ہے کہیں اور نہیں منائی جاتی۔ گوالیار ،اندور، دھول پور ، وارانسی ، بھرت پور ،بڑودہ کے علاوہ اتر سے دکھن اور پورب سے پچھم تک ہر جگہ کے بے شمار لوگ دس محرم کو امام حسین کی شہادت کا غم مناتے نظر آتے ہیں ۔ یہ غم پورے بھارت میں بڑی عقیدت او ربہت احترام سے منایا جاتاہے۔ یہاں کے باشندے کسی نہ کسی صورت میں اس قربانی کو یاد کرتے ہیں اور اس یاد کوبڑی اہمیت دیتے ہیں۔مشہور زمانہ فلمی اداکار ،ہر دل عزیز سماجی خدمت گار اور مقبول سیاسی رہنما آنجہانی سنیل دت اپنے آپ کو حسینی برہمن کہتے تھے۔ رسول ﷺ کے چھوٹے نواسے امام حسین تاریخ انسانیت میں پہلا اور شاید آخری بچہ ہے جس کی پیدائش پر خاندان رویا۔ رسول خود روئے جب جبرئیل امین نے امام حسین کی ولادت پر مبارک باد کے ساتھ یہ بتا یا کہ ا س بچہ کو کربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا پیاسا اپنے 71ساتھیوں کے ساتھ شہید کیا جائے گا اور اس کے کنبے کی عورتیں اور بچے قید کر کے دربدر پھرائے جائیں گے۔ جیسا کے عرض کیا گیا سنیل دت اپنے آپ کو حسینی برہمن کہتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی اولاد نہیں تھی ۔ رسول ﷺ کے معجزوں کو سن کر وہ ان کے پا س پہنچے تو امام حسین کھیل رہے تھے۔ رسولﷺ نے ان سے کہا کہ تم ان کےلئے دعا کرو ۔ حسین نے اپنے ننھے ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اور ان کے اولاد ہوئی۔ تب ہی سے لوگ اپنے آپ کو حسینی برہمن کہنے لگے۔ حسینی برہمن دردنا چاریہ کی نسل سے تھے۔ ان میں خودداری ، بہادری، او رہمت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کربلا میں حسین کی شہادت کی خبر سنی تو حسینی برہمن 700عیسوی میں عراق پہنچے اور امام حسین کا بدلہ لے کر واپس آئے۔ یاد رہے کہ کربلا کا واقعہ 680عیسوی میں ہوا تھا ۔ اسلام کا تعلق ہندوستان سے بہت پرانا ہے۔ رسول ﷺ کے بڑے نواسے امام حسن کے وقت سے ہی عرب تاجر سمندر کے راستے کیرل کی بندگاہ پر آتے ۔خواجہ معین الدین چشتی جو خواجہ اجمیری کے نام سے مشہور ہیں اجمیر آئے۔ یہ امام حسین کے خاندان سے تھے اور ہندوستان آنے پر مذہبی رواداتی کی علامت کہلائے ۔ آج بھی ان کے مزار پر ہر مذہب کے ماننے والے آتے ہیں۔ ان کے مزار کے صدر دروازے پر فارسی زبان میں لکھے گئے ان چاروں مصرعوں میں امام حسین کی عظمت اور ان کے مقصد کی بلندی بڑے عام فہم لفظوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے:

http://www.newageislam.com/urdu-section/سانحۂ-کربلا-اور-ہندوستان-راج-پتھ-پر-جلوس-محرم/d/2287


Sunday, June 17, 2012

مادر وطن کی ٹھیکیداری ،بندہ پرور کب تلک؟, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مادر وطن کی ٹھیکیداری ،بندہ پرور کب تلک؟

پروفیسر طاہر محمود

آج آزادی کے 62برس بعد بھی ملک کے کچھ شہری یہ نہیں جانتے یا شاید جاننا چاہتے نہیں کہ اس سرزمین حکومت کس کی ہے، کسی خاص مذہب کی ،مذہبی اکثریت کی یا قانون کی؟ اور اگر بفرض محال انہیں یہ معلوم ہوکہ ہماری دستوری جمہوریت میں قانون کی حکمرانی کا اصول مسلمہ ہے تو انہیں یہ قطعاً منظور نہیں ہے۔ صورتحال جو بھی ہو، یہ حضرات دن دہاڑے ملکی نظام کے اس بنیاد ی اصول کی دھجیاں اڑاتے پھر تے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ ان لوگوں کے نزدیک اس ملک میں حکمرانی غنڈہ گردی کی ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہی یہاں کا قانون ہے۔ دوسری طرف شہریوں کے ایک اور طبقہ نے اپنے ذمہ یہ غیر دانشمند انہ کام لے رکھا ہے کہ غنڈہ راج کے حامیوں کو ان کے حسب منشا مواقع بہم پہنچا تے رہیں ۔ چنانچہ ایندھن ملتا رہتا ہے اور فرقہ واریت کی آگ سلگانے کا قومی فرض کفایہ پورا ہوتا رہتا ہے۔

‘‘بھارت میں یدی رہنا ہوگا تو وندے ماترم کہنا ہوگا’’ یہ وہ نادر شاہی فرمان ہے، جو ہندوستانیوں کے ایک بہت بڑے طبقہ کو شہریوں کے ایک دوسرے طبقہ کے کچھ افراد کی طرف سے وقتاً فوقتاً سنایا جاتا ہے۔ یہ فرمان حکومت وقت کا نہیں ہوتا اور نہ ہی شہریوں کی اکثریت اس کی حامی ہوتی ہے۔ اسے جاری کرنے اور منوانے کے لئے آپے سے باہر ہوجانے والے معدودے چند لوگ ہوتے ہیں، جو خود کو مادر وطن کا ٹھیکیدار مانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ گنے چنے انصاف پسندا فراد کو چھوڑ کر شہریوں کی بھاری اکثریت دادا گیری کی خاموش تماشائی رہ کر اس سچائی سے بے نیاز رہتی ہے کہ ‘‘ارے اوجفاؤں پر چپ رہنے والوں ، خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے’’۔ اس فرمان کے پیچھے خالصتاً سیاسی مفاد کوشی ہوتی ہے نہ کہ مذہب یا حبّ وطن، لیکن فرمان کے مخاطبین کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس شرارتی چال میں پھنس کر مذہبی بنیادوں پر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاتے ہیں اور پھر آگ مزید بھڑکنے لگتی ہے۔ سنسکرت اور بنگالی زبان کے ملے جلے اس قومی گیت کی نوعیت اور معافی سے بے خبر عوام دونوں ہی طرف اس کھیل کے شکار ہوجاتے ہیں۔مسلمان سمجھتے ہیں کہ انہیں غیر اللہ کا کوئی ایسا کلمہ پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے ، جس کے زبان سے نکلتے ہی وہ کفر وشرک کے مرتکب ہوکر اسلام سے یکسر خارج ہوجائیں گے اور ادھر ہندؤں میں مسلمانوں کے محب وطن نہ ہونے کا بے بنیاد تاثر پیدا ہونے لگتا ہے۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-12/d/2106