Pages

Showing posts with label واقعہ. Show all posts
Showing posts with label واقعہ. Show all posts

Thursday, June 21, 2012

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور دہشت گردی, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور دہشت گردی

پروفیسر اختر الواسع

قرآن میں پیغمبر ؐ اسلام کو اخلاق عظیم کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ اس اخلاق عظیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کے اندر بے انتہا پسند برداشت اور بردباری کی صفت پائی جاتی تھی۔ قرآن میں آپ کی اس صفت کی ان لفظوں میں تعریف کی گئی ہے: ‘‘اگر آپ درشت طبع اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ سے دور ہوجاتے ۔’’ ( آل عمران :159) آپ کی اس طبعی صفت اور انسانیت کے تئیں آپ کی منصب کے اعتبار سے آپ کو خالق کائنات کی طرف سے رحمتہ للعالمین کا خطاب دیا گیا۔ آپ نے جس زمانے اور ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں، اس میں انسانیت کشی اور ظلم و ناانصافی اپنی انتہا پر تھی۔ ایسے میں کسی بھی دینی اور روحانی انقلاب کا برپا ہوناامن اور انسانیت کی تحریک کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کی پوری تحریک ایک پرُ امن تحریک تھی۔

بلا شبہ آپؐ نے جنگیں کیں، لیکن یہ ساری جنگیں دشمنوں اور جارحیت پسندو ں سے اپنے دفاع کے لیے تھیں،جس کا حق دنیا کے تمام قوانین میں تسلیم کیا گیا۔ کسی بھی تحریک کے لئے ناگزیر صورت حال میں ایسا کرنا عین فطری تقاضا ہوتا ہے ۔ عیسائیت کو حضرت عیسیٰ کی اس طرح کی تعلیمات کی وجہ سے خالص امن پسند مذہب تصور کیا جاتا ہے کہ :‘‘ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم اس کو اپنا دوسرا گال پیش کردو اور اگر کوئی تم سے تمہارا کرتا مانگے تو تم اسے پنا چوغہ دے دو۔’’ اور یہ کہ :‘‘ تم اپنے دشمن سے بھی پیا کرو’’۔ اس میں شک نہیں کہ عیسائیت کی تعلیمات امن نہایت اہم ہیں لیکن قابل غور بات ہے کہ حضرت عیسیٰ سے بائبل میں متعدد مقامات پر اس نوع کے اقوال بھی مروی ہیں کہ : تم اپنا کپڑا بیچ کر تلوار خرید لو یا یہ کہ یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر امن لے کر آیا ہوں، میں امن لے کر نہیں تلوار لے کر آیا ہو(متی :34/10)۔ اس سے اندازہ ہوتا کہ بسااوقات امن کے قیام کے لئے تشدد اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہوتا ۔ البتہ یہ صورت عموم کی نہیں استثنا کی ہے۔

مکے میں آپ تیرہ سال تک اسلام کی دعوت دیتے رہے لیکن کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں کہ جس میں آپ نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ آپ کو قرآن میں عفو اور اعراض کا حکم دیا گیا تھا ، آپ اس پر عامل رہے۔ آپ اور آپ کے اصحابؓ کو مختلف طرح سے ایذائیں دی جاتی رہیں، آپ کو بھڑکایا جاتا رہا لیکن آپ اشتعال پر مشتعل نہیں ہوئے ۔ آپ ہمیشہ مظلومین کو یہ کہہ کر صبر کی تلقین کرتے رہے کہ :‘‘ صبر کرو تمہاری جگہ جنت ہے۔’’ یہاں آپ کے اشاروں پر مر مٹنے والے صحابہ موجود تھے۔ آپ علی الا علان نہ سہی ،خفیہ طور پر ہی سہی! ان جاں نثاروں کو استعمال کر کے اپنے بہت سے دشمنوں کو ٹھکانے لگا سکتے تھے۔ لیکن آپ نے دہشت پسندی کی یہ روش نہیں اپنائی ۔ اس صبر و برداشت کے انعام اور نتیجے کے طور پر آپ کو مدینہ میں حکومت کے قیام کا موقع حاصل ہوا۔مدینے میں بڑی تعداد میں یہودی مقیم تھے ۔ جو آپ کے سخت دشمن تھے ۔ یہاں ان کے عبادت خانے ، ان کی چوپالیں قائم تھیں لیکن ان سے تعرض کرنے کی بجائے آپ نے یہودیوں سے معاہدہ کر کے انہیں حکومت کی صف میں شامل کرلیا ۔انہیں توڑ نے کےبجائے جوڑ نے کی کوشش کی اور وہشت و تخویف کی بجائے ان سے اخوت او رمحبت کا معاملہ کیا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/رسول-اللہ-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-تعلیمات-اور-دہشت-گردی/d/2533


Saturday, June 16, 2012

گاندھی جی کی زخمی بکری, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
گاندھی جی کی زخمی بکری

فیروز بخت احمد

بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ گاندھی جی شستہ اردو تولکھتے ،بولتے اور پڑھتے تھے ہی ،عربی بھی وہ جانتے تھے اور فارسی کا بھی انہیں علم تھا کیونکہ اکثر سیاسی محفلوں میں وہ فارسی اشعار وکہاوتوں کا استعمال کیا کرتے تھے ۔اردوکلچر یا اسلامی اقدار سے قربت مولانا آزاد سے قربت کا نتیجہ تھی۔

کچھ لوگوں کےنزدیک گاندھی جی سیاستداں ہو ں گے ۔کچھ لوگوں کے لیے وہ فلسفی ہوں گے ،کچھ لوگوں کے لیے وہ آزادی ہند کے جاں نثار سپاہی ہوں گے اور کچھ لوگوں کے لیے و ہ محض ایک اچھے انسان ہوں گے ۔سیاست میں رہتے ہوئے انسان کا اچھا انسان بنے رہنا کچھ دشوار سا عمل ہے۔مگر گاندھی جی کی یہ خوبی تھی کہ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے ایک اعلیٰ انسان تھے ۔

بقول مولانا آزاد اچھا انسان ہونا ایک ایسی عظمت ہے جو بڑی عام سی دکھائی دیتی ہے مگر کم ہی خوش نصیبوں کےحصے میں یہ خصلت آتی ہے ۔واقعی گاندھی جی بہت اچھے انسان تھے۔ ایک مرتبہ جب بنگال کے نواکھالی علاقے میں خطرناک قسم کے ہند و مسلم فسادات چل رہے تھے تو گاندھی جی گھر گھر جاکر خیر سگالی کا پیغام دےرہے تھے ۔ یہ واقعہ راقم کے والد نورالدین احمد مرحوم کے پاس کلکتہ میں مولانا کے غیر مطبوعہ تحریری خزانہ سے اخذ کیا گیا ہے ۔جب بڑا لال بازار کے ایک گھر کے زینہ سے گاندھی جی اتر ے تبھی انہیں ایک جوشیلے بنگالی مسلمان نے پکڑ لیا اور گردن گرفت میں کر کے گلا دبا نا شروع کردیا ۔ان دنوں سیکورٹی گارڈ نہیں ہوا کرتے تھے ۔ اس سے قبل کہ مولانا آزاد جو کہ اس وقت ان کے ساتھ تھے اور دیگر اکابرین جیسے مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ،مولانا حفظ الرحمٰن وغیرہ بھی ان کےساتھ تھے، یہ کوشش کرتے کہ مولانا کو چھڑائیں ،وہ شخص بولا ۔‘‘کوئی آگے نہیں آئے گا اس کافر کی کیسے ہمت ہوئی کہ یہ یہاں آگیا!’’ یہ کہہ کر اس نےگاندھی جی کو دھکا دیا، وہ دھان پان تو تھے ہی گرگئے ۔مگر گرتے ہوئے انہوں نے جب سورۃ فاتحہ پڑھی تو سب دنگ رہ گئے ۔ یہ دیکھ کر وہ بنگالی مسلمان بھی حیران رہ گیا اور دشمنی تھوک کر تاحیات ان کا چیلا بن گیا۔ اس کا نام تھا عبدالرحمٰن منڈل ۔

http://newageislam.com/urdu-section/گاندھی-جی-کی-زخمی-بکری/d/1832