Pages

Showing posts with label نکاح. Show all posts
Showing posts with label نکاح. Show all posts

Tuesday, June 19, 2012

عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 32, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 32
میرے ایک اور بدنصیب نوجوان دوست ہیں جنہیں خدانے اپنے فضل سے علم ودلوں صحت ناموری خاندانی پاکیزگی خیالات ہر دلعزیز ی سب کچھ عنایت کیا۔مگر عمر بھر کا رفیق دل پسندنہ ملا ۔گو اس بدنصیب جوان نے بے شرم ہوکر اپنی دل پسند جگہ بھی بتلادی مگر سنتے ہیں کہ ہڈی کے امتحان میں پوری نہ نکلنے کی وجہ سے اور اس کے ہمراہ بہت بیش بہا جہیز آنے کی امید نہ ہونے سے خاندان کے بڑے بوڑھوں نے کپڑوں کے چمکیلے جوڑوں اور گراں بہا طلائی زیوروں کے مقابلہ میں اپنے نوروید ہ کی دل شکنی کی جس کو وہ اپنی خوش فہمی سے لحظ بھر کی ناخوشی اور بچپن کی ضد سمجھتے تھے گو ار کیا ۔ آخر وہ حرماں نصیب جس کو یہ بھی مشکل پیش آئی ہے کہ وہ ازدواج ثانی کو مشروط بعد سمجھتا اور اس شرط کا ایفانا ممکن جانتا ہے سخت یا س وحسرت میں گرفتار اور رنج ومحن میں مبتلا ہے نہ یا رائے شکیبائی نہ طریق رہائی یا وحسرت کے اشعار پڑھنا ۔سرد آہیں بھرنا۔ ہر وقت غمگین اور اداس رہنا ۔عمر بھر کے لئے امید کی خوشی سے محروم ہوجانا نوجوانوں میں کیسی آفت ہے۔ بیٹے کو دولہن سے ناخوش دیکھ کر ماں باپ کا دن رات دل جلتا ہے۔مگر یہ جگر خراش رنج اور لاعلاج خرابیاں دوسرے ماں باپوں کو کچھ عبرت نہیں دیتیں اور نکاح کے طریق میں کوئی اصلاح عمل میں نہیں آتی۔ وہ مظلوم غمزدہ لڑکیاں جن کو ماں باپ نے دنیا کے کتے بن کر چند روزہ دنیا کی نعمت کے لالچ سے گھر سے دھکیل دیا۔ جن کے شوہروں نے اس نالائقی کے قصور میں ان کے ماں باپ نے شروع کی صریحا مخالفت کر کے ان کی سچی رضا مندی حاصل کرنے کے بغیر ان کا نکاح کردیا کبھی آنکھ اٹھا کر ان لڑکیوں کو نہیں دیکھا جن کی ساری عمر اپنی قسمت پر رونے او راپنی بد قسمتی سے اپنے ماں باپ کو رولانے میں گزری دوسرے ماں باپوں کو کچھ سبق نہیں دیتیں ۔غلطی پر غلطی کی جاتی ہے اور لڑکیوں کو جان بوجھ کر جان سے مارا جاتا ہے۔ یہاں تک ہم نے جو کچھ وہ ان خرابیوں کی نسبت تھا جو نکاح میں شوہر کی پوری پوری ازادانہ رضا مندی حاصل نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہیں مگر اسی قدر اس کے مقابل میں وہ خرابیاں ہیں جو نکاح میں عورت کی پوری پوری آزاد انہ رضا مندی حاصل نہ کرنے سے پیدا ہوسکتی ہیں۔مگر عورت کے حقوق ہمارے ملک میں ایسے دبائے گئے ہیں کہ ان کو خود اپنے حقوق کادعویٰ بلکہ خیال تک کرنے کی جرأت نہیں رہی ۔عورتیں اپنے تئیں نہایت خوش قسمت جانتی ہیں اگر شوہر ان کے ہمراہ سیدھے منہ سے بولیں ۔وہ نہیں چاہتیں اپنی پسند کے اختیار کو استعمال میں لا کر شوہروں پر نکتہ چینی کریں۔ لیکن خواہ وہ کیسی ہی تابعداری و اطاعت خدمت گزاری کیوں نہ کریں دلی رغبت اور محبت اختیاری امر نہیں ہے پس جو لوگ عورتوں کا قدرتی اختیار چھیننا اور ان کی ظاہری اطاعت وفرما نبرداری و غمخواری کو محبت پر محمول کرنا پسند کرتے ہیں ان کو یاد رہے کہ اس زبردستی کا لازمی نتیجہ خود ان کے حق میں مفید نہ ہوگا یعنی وہ سچا انس وخلوص او روہ مقام محبت کا جسے ایک روح اور دوجسم ہوجانے سے تعبیر کرتے ہیں کبھی نصیب نہ ہوگا اور وہ اس حقیقی نکاح کا جو خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں میں منظور ہے ہر گز حظ ولطف نہ اٹھا سکیں گے۔
http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-32/d/2201

Monday, June 18, 2012

عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 34, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 34

کیسے افسوس کی بات ہے کہ رسم ورواج اور اپنے فرضی ناموں کے قائم رکھنے کےلئے شریعت مصطفوی کو پامال کیا جاتا ہے ۔خدا اور رسول کے ساتھ ٹھٹے اور دغا بازیاں کی جاتی ہیں اور خدا کے محکمہ کو دنیا کے ان ذلیل محکموں کی سطح پر لانا چاہتے ہیں جہا ں قانون کے معنی کی نسبت زیادہ تر اس کے الفاظ پر بحث ہوتی ہے۔ پس اس عالم الغیوب نیتو ں کے جاننے والےکے آگے کیا جواب دوگے جو جانتا ہے کہ سکوت سے سکوت والے کی نیت کیا ہے اور پوچھنے والے کی نیت کیا ہے۔ ہمیں کوئی بتادے کہ لاکھوں کروڑوں نکاحوں میں جو ہر روز ہوتے ہیں اتنی کیسی مثالیں ہیں جن میں کسی نے یہ بھی کہا کہ مجھے قبول نہیں ۔ اگر ایسے سوال کو جس کے جواب میں ہمیشہ ایجاب کی توقع رکھی جاتی ہے اور فی الواقع ایجابی جواب ملتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ یہ موقع کسی اورقسم کے جواب کا نہیں اور تمام تیاریاں بیاہ کی اس یقین پر کرلی جاتی ہیں کہ جواب ایجابی ہی دیا جائے گا اگر ایسے سوال کو اختیار سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یہ لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔

لیکن سب سے سخت مشکل یہ ہے کہ اگر اس قسم کا پورا اختیار عورت کو دے بھی دیا جائے تو وہ بیچاری ایک شخص کو کس طرح اچھا یا برا کہہ سکتی ہے جب کہ اس نے اس کو دیکھا تک نہیں اس کی عادات و اطوار سے واقفیت حاصل نہیں کی ۔ وہ نہیں جانتی کہ اس کی خوسبو کیسی ہے اور وہ اس کے ہمراہ کس قسم کا سلوک کرے گا۔ پس عورت کو اختیار ملنے کی صورت میں بھی فقط اس مختصر امر کی بنا پر کہ فلاح شخص فلانے کا بیٹا ہے اور اس عمر کا ہے وہ زندگی بھر کے معاملات پیچیدہ کے لئے اس کو کس طرح منتخب کرسکتی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کی خرابی کی اصل بنیاد یہ ہی پردہ خلاف شرع ہے جس کے روسے فریقین ازدواج کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھ کر جوئے کے طور پر قسمت کے بھروسہ پر ایک کام کیا جاتا ہے جو ممکن ہے کہ موجب شادمانی و کامرانی ہو او رممکن ہے عمر بھر کے لئے عذاب جاں اور موجب یاس و حرمان ہو۔

http://newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-34/d/2214


Thursday, May 17, 2012

نوکرانیوں اور کال گرلز وغیرہ کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی تعلق کا جواز پیش کرنے کے لئے نقل کی جانے والی قرآنی آیات پر نئی بصیرت, Urdu Section

Urdu Section
نوکرانیوں اور کال گرلز وغیرہ کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی تعلق کا جواز پیش کرنے کے لئے نقل کی جانے والی قرآنی آیات پر نئی بصیرت
by محمد یونس، نیو ایج اسلام
"اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے(24:32)۔ اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر دینے کی شرط پر آزاد) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب (مذکورہ شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے"(24:33)
http://newageislam.com/urdu-section/نوکرانیوں-اور-کال-گرلز-وغیرہ-کے-ساتھ-بغیر-شادی-کے-جنسی-تعلق-کا-جواز-پیش-کرنے-کے-لئے-نقل-کی-جانے-والی-قرآنی-آیات-پر-نئی-بصیرت/d/7242